کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے ایک اخباری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے باوجود حلقے کی حتمی ووٹر فہرست میں 397 افراد کے نام پر 803 ووٹر آئی ڈیز درج ہیں۔
سالار نیوز
– منصور علی خان نے سوال اٹھایا کہ جس بے ضابطگی کی نشاندہی ایک اخبار نے کردی، اسے الیکشن کمیشن کے دفتر نے ایس آئی آر کے دوران کیوں نہیں پکڑا؟ (فیس بک)
بنگلورو، 4 نومبر:
بنگلورو سینٹرل کے مہادیوپورہ اسمبلی حلقے میں ایک بار پھر سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ اسی حلقے میں کانگریس رہنما نے سب سے پہلے ’ووٹ چوری‘ کا معاملہ اٹھایا تھا اور الزام لگایا تھا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے اس حلقے میں ایک لاکھ سے زائد ووٹروں کے نام منظم طریقے سے شامل کیے گئے تھے۔
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ منصور علی خان، جنہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اس حلقے سے مقابلہ کیا تھا، نے روزنامہ ’دی ہندو‘ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ کم از کم 397 افراد کے پاس دو یا اس سے زیادہ ووٹر شناختی کارڈ موجود ہیں۔
انہوں نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ ریاست میں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہونے کے باوجود ’’مہادیوپورہ کی حتمی ووٹر فہرست میں 397 افراد کے ساتھ 803 ووٹر آئی ڈیز منسلک ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’ایس آئی آر کا ایک اہم مقصد فرضی اور دوہرے اندراج والے ووٹروں کے ناموں کو فہرست سے خارج کرنا بھی تھا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’کرناٹک کے چیف الیکشن کمشنر کے دفتر کا کہنا ہے کہ اسے دوہرے اندراج سے متعلق کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے اور وہ ان معاملات کی تصدیق کرے گا۔ لیکن اصل مسئلہ یہی ہے۔ خصوصی جامع نظرثانی کا مقصد ہی ایسے اندراجات کی نشاندہی کرنا تھا۔‘‘
منصور علی خان نے سوال اٹھایا کہ جس بے ضابطگی کا پتہ ایک اخبار لگا سکتا ہے، ایس آئی آر کے عمل کی ذمہ داری سنبھالنے والا ادارہ اس کی نشاندہی کیوں نہیں کرسکا؟



