بدھ کی نصف شب سے نظرثانی شدہ کرایوں کا نفاذ ہوگا، بی ایم ٹی سی کے کرایوں میں کے ایس آر ٹی سی کے مقابلے میں اوسطاً زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی
– وزیر ٹرانسپورٹ بیارتھی سریش کے مطابق، ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ملازمین کی تنخواہوں کے اخراجات کے باعث ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ (کے ایس آر ٹی سی)
بنگلورو، 4 نومبر:
کرناٹک کے وزیر ٹرانسپورٹ بیارتھی سریش نے ریاست کی چار سرکاری ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کے بس کرایوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت کے ایس آر ٹی سی کے کرایوں میں اوسطاً 23 فیصد جبکہ بی ایم ٹی سی کے کرایوں میں 33 سے 35 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔
نظرثانی شدہ نئے کرایوں کا اطلاق بدھ کی نصف شب سے ہوگا۔
بدھ کے روز یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر سریش نے کہا کہ ’’ہم نے منافع کمانے کے لیے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا ہے بلکہ نقصانات کو کم کرنے اور کے ایس آر ٹی سی اور بی ایم ٹی سی جیسی کارپوریشنوں کو مالی بحران سے بچانے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا کہ کرایوں میں نظرثانی یکساں فیصد کی بنیاد پر کرنے کے بجائے مختلف سفری مراحل (اسٹیج) کے حساب سے کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’کے ایس آر ٹی سی میں سفر کے مراحل کے لحاظ سے کرایوں میں 4 سے 16 روپے تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ عام بسوں کے کرایوں میں زیادہ سے زیادہ 9 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔‘‘
بی ایم ٹی سی میں کم از کم کرایہ 6 روپے سے بڑھا کر 10 روپے اور زیادہ سے زیادہ کرایہ 35 روپے سے بڑھا کر 45 روپے کردیا گیا ہے۔ ایئرپورٹ بسوں کے کرایوں میں بھی نظرثانی کی گئی ہے۔ ان کا کم از کم کرایہ 185 روپے سے بڑھا کر 200 روپے اور زیادہ سے زیادہ کرایہ 405 روپے سے بڑھا کر 425 روپے کردیا گیا ہے۔
سریش نے کہا کہ ’’کے ایس آر ٹی سی کے کرایوں میں اوسطاً 23 فیصد اضافہ ہوا ہے، نہ کہ 40 فیصد۔ بی ایم ٹی سی کو مالی طور پر کہیں زیادہ نقصان کا سامنا ہے، اس لیے اس کے کرایوں میں تقریباً 33 سے 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر اتل کمار تیواری کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے مجموعی طور پر کرایوں میں 45 فیصد اضافے کی سفارش کی تھی، جبکہ کارپوریشنوں کے بورڈ نے بعض معاملات میں 90 فیصد تک اضافے کی تجویز پیش کی تھی۔
تاہم، حکومت نے ان سفارشات کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔
وزیر نے کرایوں میں اضافے کی وجہ ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ملازمین کی تنخواہوں پر ہونے والے اخراجات کو قرار دیا۔ ان کے مطابق، مئی 2025 سے اب تک ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 10.47 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے اور اب اس کی قیمت 98.13 روپے ہوگئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چاروں ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں پر ڈیزل کے بلوں کی مد میں مجموعی طور پر 1,111.88 کروڑ روپے واجب الادا ہیں، جبکہ سالانہ تقریباً 5,694 کروڑ روپے ایندھن پر خرچ ہوتے ہیں۔
سریش نے کہا کہ ’’چاروں کارپوریشنیں خسارے میں چل رہی ہیں۔ ہم نے منافع کمانے کے لیے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا بلکہ صرف نقصانات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ان چاروں کارپوریشنوں کی سالانہ آمدنی تقریباً 14,000 کروڑ روپے ہے، جبکہ ان کے اخراجات تقریباً 16,000 کروڑ روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔
وزیر نے مختلف روٹس کے نئے کرایوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بنگلورو کے میجسٹک بس اسٹینڈ سے نیلمنگلا اور ہوسکوٹے تک کا کرایہ 35 روپے سے بڑھا کر 44 روپے کردیا گیا ہے، جبکہ دودّابلاپور اور انیکال تک کا کرایہ 38 روپے سے بڑھا کر 47 روپے ہوگیا ہے۔
اسی طرح مگڑی اور مالور کا کرایہ 46 روپے سے بڑھا کر 57 روپے کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بنگلورو سے کولار تک کے ایس آر ٹی سی ایکسپریس بس کا کرایہ 81 روپے سے بڑھ کر 100 روپے ہوگیا ہے۔‘‘
طویل فاصلے کی بس خدمات کے لیے کم از کم کرایہ 15 روپے سے بڑھا کر 20 روپے کردیا گیا ہے، جبکہ 60 کلومیٹر کے سفر کا کرایہ 75 روپے سے بڑھا کر 90 روپے ہوگیا ہے۔ وایو وجرا ایئرپورٹ بس کا زیادہ سے زیادہ کرایہ بھی 405 روپے سے بڑھا کر 425 روپے کردیا گیا ہے۔
وزیر نے واضح کیا کہ راجاہمسہ جیسی لگژری اور ایئرکنڈیشنڈ بس خدمات، جو تجارتی بنیادوں پر چلائی جاتی ہیں، ان کے کرایوں میں اس نظرثانی کے تحت کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
ماہانہ اور یومیہ بس پاس کے نرخوں میں بھی اضافہ کیا جائے گا، جس کی نظرثانی شدہ تفصیلات متعلقہ کارپوریشنیں جاری کریں گی۔
وزیر نے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا کہ ’شکتی اسکیم‘ کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کو نقصان ہورہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت خواتین سرکاری نان لگژری بسوں میں مفت سفر کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ حکومت خواتین مسافروں کے استعمال کردہ ٹکٹوں کی پوری رقم چاروں ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کو ادا کرتی ہے۔‘‘
وزیر کے مطابق، اس اسکیم کے تحت روزانہ تقریباً 74.40 لاکھ خواتین مفت سفر کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’ادائیگیوں میں تاخیر ہوسکتی ہے، لیکن حکومت کارپوریشنوں کو رقم واپس ادا کرتی ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 2023-24 سے اکتوبر 2026 تک چاروں کارپوریشنوں کو 16,594 کروڑ روپے جاری کیے ہیں، جبکہ مختلف اسکیموں کے تحت مزید 6,300 کروڑ روپے کی ادائیگی باقی ہے۔
سریش کے مطابق، چاروں ٹرانسپورٹ کارپوریشنیں مجموعی طور پر تقریباً 26,125 بسیں چلاتی ہیں، روزانہ 24,179 شیڈول کے تحت خدمات انجام دیتی ہیں اور اوسطاً 1.24 کروڑ مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔
ان کارپوریشنوں میں تقریباً 1.02 لاکھ ملازمین کام کرتے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں، تنخواہوں اور مہنگائی الاؤنس میں اضافے کے تناسب سے بس کرایوں پر وقتاً فوقتاً نظرثانی کی جانی چاہیے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ایم آر سرینواس مورتی کی سربراہی میں 2021 میں قائم کمیٹی نے بھی کرایوں میں باقاعدہ نظرثانی اور پبلک ٹرانسپورٹ کرایہ ریگولیٹری کمیٹی کے قیام کی سفارش کی تھی۔



