Thursday, November 5, 2026
الرئيسيةعالمی خبریںعبدالسلام السید امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن...

عبدالسلام السید امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے، تاریخ رقم کردی

مصری تارکین وطن کے فرزند عبدالسلام السید نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی۔ ان کی انتخابی مہم کا محور سب کے لیے صحت کی سہولیات، انتخابی مہم میں مالی اصلاحات اور اسرائیل پر تنقید رہا۔

پی ٹی آئی

– برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز سمیت ترقی پسند رہنماؤں کی حمایت حاصل کرنے والے السید کی کامیابی ڈیموکریٹک پارٹی کے بائیں بازو کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ (فیس بک)

واشنگٹن، 4 نومبر:

ترقی پسند نظریات کے حامی عبدالسلام السید نے مشی گن کی خالی سینیٹ نشست کے لیے سخت مقابلے میں ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے دی۔ ان کی کامیابی سے امریکہ کی اہم ترین سیاسی طور پر غیر یقینی ریاستوں میں سے ایک میں ڈیموکریٹک پارٹی کے بائیں بازو کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

مصری تارکین وطن کے فرزند السید امریکہ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن جائیں گے۔ وہ صحت عامہ کے سابق عہدیدار ہیں اور اس سے قبل کبھی کسی عوامی عہدے کے لیے منتخب نہیں ہوئے۔ آٹھ سال قبل مشی گن کے ڈیموکریٹک گورنر کے انتخاب میں دوہرے ہندسے کے فرق سے شکست کھانے کے بعد اب وہ امریکی سینیٹ کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

السید نے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری اور عام انتخابات دونوں میں بیرونی ذرائع سے ہونے والے بھاری اخراجات کا مقابلہ عوامی سطح پر چلائی گئی انتخابی مہم کے ذریعے کیا۔ ان کی مہم میں سب کے لیے یکساں صحت کی سہولیات، انتخابات میں بیرونی مالی اثر و رسوخ کے خاتمے اور اسرائیل پر سخت تنقید کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔

کانگریس رکن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز سمیت ترقی پسند رہنماؤں کی حمایت سے حاصل ہونے والی اس کامیابی سے 2028 کے صدارتی انتخابات سے قبل اس تحریک کو تقویت ملے گی۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی پسند ایجنڈے کی حمایت کرنے والے امیدوار اہم انتخابی ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

ریپبلکن پارٹی نے سابق کانگریس رکن راجرز کے لیے مقابلے کا میدان صاف کردیا تھا۔ راجرز دو سال قبل اس وقت کی کانگریس رکن ایلیسا سلاٹکن کے خلاف سینیٹ کا انتخاب معمولی فرق سے ہار گئے تھے۔ تاہم، اس مرتبہ راجرز کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے اپنی وفاداری برقرار رکھنے کے ساتھ ایران جنگ سے جڑی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور صدر کی جانب سے عائد کردہ محصولات کے باعث پیدا ہونے والی معاشی بے چینی کا سامنا کرنا پڑا۔

انتخابی مہم کے دوران اسرائیل پر السید کی تنقید کو لے کر بھی سخت حملے کیے گئے۔ ٹرمپ اور دیگر ریپبلکن رہنماؤں نے بارہا انہیں دہشت گرد تنظیموں سے جوڑنے کی کوشش کی، حالانکہ اس طرح کے تعلق کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔ ان کی امریکہ سے وفاداری پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

متنازعہ پرائمری انتخابات کے بعد السید کو اس بات پر بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا کہ آیا وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مختلف گروپوں کو متحد کرپائیں گے یا نہیں، بالخصوص ڈیٹرائٹ کے سیاہ فام ووٹروں اور اس کے مضافاتی علاقوں کے یہودی ووٹروں میں۔

السید کی پرائمری انتخابی حریف اور کانگریس رکن ہیلی اسٹیونز نے یکم نومبر کو ڈیموکریٹک امیدوار کی حمایت کرنے کے بجائے راجرز کی حمایت کا اعلان کرکے پارٹی رہنماؤں کو حیران کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹک امیدوار نے ان کے اور یہودی برادری کے خدشات کو دور کرنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے۔

السید نے ڈیموکریٹک اتحاد میں اختلافات کے خدشات کو دور کردیا

دو مرتبہ سینیٹر رہنے والے ڈیموکریٹک رہنما گیری پیٹرز کے دوبارہ انتخاب میں حصہ نہ لینے کے فیصلے کے بعد یہ مقابلہ امریکی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی قومی سیاسی جدوجہد کا اہم مرکز بن گیا تھا۔

السید نے اگست میں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ ہیلی اسٹیونز کے خلاف سخت مقابلے والے پرائمری انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس انتخابی مقابلے میں بیرونی ذرائع سے تقریباً 60 ملین ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔

امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) نے السید کی مخالفت میں تقریباً 30 ملین ڈالر خرچ کیے، جو کسی ایک انتخابی مقابلے میں اس تنظیم کی سب سے بڑی سرمایہ کاری تھی۔ السید اسرائیل کے سخت ناقد رہے ہیں۔

متنازعہ پرائمری انتخابات نے ڈیموکریٹک اتحاد کے اندر موجود اختلافات کو نمایاں کردیا تھا۔ مشی گن کی یہودی برادری کے بعض افراد نے السید کے بیانات پر تنقید کی تھی۔ ان میں اس سال کے اوائل میں مشی گن کے ایک یہودی عبادت خانے پر حملے کے بعد ان کا یہ بیان بھی شامل تھا کہ ’’جو لوگ خود تکلیف اٹھاتے ہیں، وہ دوسروں کو بھی تکلیف پہنچاتے ہیں۔‘‘

بعد ازاں انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان تمام افراد سے معافی چاہتے ہیں جنہیں محسوس ہوا کہ ان کے تبصروں سے انہیں تکلیف پہنچی ہے۔

اس کے علاوہ معروف سیاسی اسٹریمر حسن پیکر کے ساتھ السید کی انتخابی مہم کی سرگرمیاں بھی تنقید کا نشانہ بنیں۔ حسن پیکر اسرائیل، یہودیوں اور 11 ستمبر کے حملوں کے حوالے سے اشتعال انگیز بیانات دے چکے ہیں۔

بعض ڈیموکریٹک رہنماؤں کو پرائمری انتخابات میں اسٹیونز کی وین کاؤنٹی میں کامیابی کے بعد ڈیٹرائٹ میں سیاہ فام ووٹروں کی کم تعداد میں شرکت پر تشویش تھی۔ سابق صدر براک اوباما اور سابق نائب صدر کملا ہیرس سمیت کئی اہم ڈیموکریٹک رہنماؤں نے ڈیٹرائٹ میں السید کے ساتھ انتخابی مہم چلائی تاکہ ووٹروں کو متحرک کیا جاسکے۔

مشی گن میں ترقی پسند ایجنڈے کو کامیابی

السید نے ایک واضح ترقی پسند انتخابی منشور کے ساتھ مہم چلائی، جس کے بعض نکات معتدل نظریات رکھنے والے ڈیموکریٹک رہنماؤں کے لیے تشویش کا باعث تھے۔

ان کی انتخابی مہم کا ایک اہم وعدہ ’میڈیکیئر فار آل‘ تھا، جس کے تحت موجودہ نجی اور سرکاری صحت بیمہ کے مشترکہ نظام کی جگہ حکومت کے زیر انتظام واحد ادائیگی کا نظام متعارف کرایا جانا ہے، جس کے ذریعے تمام شہریوں کو صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

آزاد سینیٹر برنی سینڈرز نے انتخابی مہم کے ابتدائی مرحلے میں السید کی حمایت کرکے ان کے لیے عوامی حمایت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے مشی گن کے بالائی جزیرہ نما اور ڈیٹرائٹ کے علاقوں میں ان کے آخری انتخابی دورے میں بھی شرکت کی۔

اس کامیابی سے ترقی پسند رہنماؤں کو 2028 کے صدارتی انتخابات سے قبل یہ مؤقف مضبوط کرنے کا موقع ملے گا کہ ان کا سیاسی ایجنڈا امریکہ کی انتہائی سخت انتخابی مقابلے والی ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔

ریپبلکن پارٹی نے 2024 کے انتخابات میں معمولی فرق سے شکست کے باوجود ایک بار پھر مائیک راجرز کو امیدوار بنایا۔ اس وقت ایلیسا سلاٹکن نے کامیابی حاصل کی تھی، حالانکہ ٹرمپ نے مشی گن میں ایک فیصد سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔

راجرز ماضی میں سی این این کے معاون رہ چکے ہیں اور ٹرمپ پر تنقید بھی کرتے تھے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں وہ صدر کے زیادہ قریب ہوگئے ہیں۔

راجرز نے ڈیموکریٹک اور آزاد ووٹروں، بالخصوص سیاہ فام اور یہودی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

تاہم، موجودہ سیاسی حالات نے ریپبلکن امیدوار کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کردیا تھا۔ راجرز ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں اور ان کے سیاسی کیریئر کا بڑا حصہ قومی سلامتی کے معاملات سے وابستہ رہا ہے۔ انہیں ٹرمپ کی حمایت برقرار رکھتے ہوئے ایندھن کی بلند قیمتوں اور ایران کے ساتھ غیر مقبول جنگ کے معاملے پر بھی اپنا موقف واضح کرنا پڑا۔

راجرز نے ستمبر میں سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ’’ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونی چاہیے، اور جلد از جلد ختم ہونی چاہیے۔‘‘

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine

الأكثر شهرة

احدث التعليقات