Thursday, November 5, 2026
الرئيسيةﻗوﻣﯽﺧﺑرﯾںکم عمر لڑکیوں کی مبینہ اسمگلنگ پر قومی انسانی حقوق کمیشن کا...

کم عمر لڑکیوں کی مبینہ اسمگلنگ پر قومی انسانی حقوق کمیشن کا تین ریاستوں اور پولیس سربراہان کو نوٹس

حقوق کے قومی کمیشن نے مدھیہ پردیش، راجستھان اور مہاراشٹر کے چیف سکریٹریز اور پولیس سربراہان سے دو ہفتوں کے اندر رپورٹ طلب کی ہے۔

پی ٹی آئی

– این ایچ آر سی نے کہا کہ کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور بالغ ہونے کے بعد مبینہ طور پر انہیں جسم فروشی کے کاروبار میں فروخت کیے جانے کی اطلاعات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا معاملہ ہیں۔ (علامتی تصویر)

نئی دہلی، 3 نومبر:

قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے منگل کے روز مدھیہ پردیش، راجستھان اور مہاراشٹر کی حکومتوں اور ان ریاستوں کے پولیس سربراہان کو ان اطلاعات کے بعد نوٹس جاری کیے ہیں کہ مدھیہ پردیش اور راجستھان کی سرحدوں سے متصل کئی اضلاع میں والدین مبینہ طور پر بڑی تعداد میں کم عمر لڑکیوں کو 3 سے 5 لاکھ روپے میں دلالوں کے ہاتھوں فروخت کررہے ہیں۔

کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ بعد ازاں ان لڑکیوں کو دلال جعلی دستاویزات کی مدد سے، جن میں انہیں اپنا ’’گود لیا ہوا بچہ‘‘ ظاہر کیا جاتا ہے، ایک جگہ سے دوسری جگہ اسمگل کرتے ہیں۔

کمیشن کے مطابق، قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ مدھیہ پردیش اور راجستھان کی سرحدوں سے متصل کئی اضلاع میں والدین مبینہ طور پر بڑی تعداد میں کم عمر لڑکیوں کو 3 سے 5 لاکھ روپے میں دلالوں کے ہاتھوں فروخت کررہے ہیں۔

کمیشن نے مزید کہا کہ بالغ ہونے کے بعد ان لڑکیوں کی ذاتی تفصیلات تبدیل کرکے ان کی شناخت چھپائی جاتی ہے اور مبینہ طور پر انہیں مہاراشٹر کے مختلف شہروں میں جسم فروشی کے کاروبار کے لیے 35 سے 40 لاکھ روپے میں فروخت کردیا جاتا ہے۔

قومی انسانی حقوق کمیشن نے مشاہدہ کیا کہ اگر خبر میں دی گئی تفصیلات درست ہیں تو یہ متاثرہ کم عمر لڑکیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔

اسی بنیاد پر کمیشن نے مدھیہ پردیش، راجستھان اور مہاراشٹر کے چیف سکریٹریز اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

بیان کے مطابق، 30 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ غربت اور دیگر وجوہات کی بنا پر والدین مبینہ طور پر اپنی کم عمر بچیوں کو فروخت کردیتے ہیں۔ رپورٹ میں ایسی اسمگلنگ کا شکار ہونے والی چار لڑکیوں کے مخصوص واقعات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine

الأكثر شهرة

احدث التعليقات