وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دیہی تعلیم کو بہتر بنانا اور بنگلورو پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
سالار نیوز
– حکومت کا ابتدائی طور پر 1,000 اسکولوں کو اس منصوبے میں شامل کرنے کا ارادہ ہے، جبکہ مستقبل میں یہ تعداد 2,000 تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ (محمد اسد)
بنگلورو، 4 نومبر:
وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بدھ کے روز کہا کہ حکومت نے ابتدائی مرحلے میں 1,000 سرکاری اسکولوں کو نجی اداروں سے منسلک کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ مستقبل میں اس منصوبے کے تحت 2,000 اسکولوں کو شامل کرنے کا ارادہ ہے۔
انہوں نے نجی اسکولوں کے انتظامیہ کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے ’نمّا شالے نمّا جوابداری‘ (ہمارا اسکول، ہماری ذمہ داری) پروگرام کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ’’ہماری حکومت نے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کی ایک نئی پالیسی نافذ کی ہے۔ ریاست کے تمام نجی اسکولوں کے انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ دیہی علاقوں کے سرکاری اسکولوں کو گود لیں یا ان کی ترقی میں تعاون کریں۔‘‘
شیوکمار نے کہا کہ دیہی اور نجی اسکولوں کے بچوں کو ایک ساتھ لانے کا مقصد معیاری تعلیم کو یقینی بنانا اور دیہی علاقوں کے طلبہ کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نے 6,000 پنچایتوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے نتائج آئندہ چار سے پانچ سال میں نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔
نجی کمپنیوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ عمارتوں کی تعمیر کے لیے 5 سے 10 کروڑ روپے خرچ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو کوئی بات نہیں۔ اپنے اسکولوں کے 10 ماہر اساتذہ کو سرکاری اسکولوں میں بھیجیں اور ان کی تنخواہیں ادا کریں۔ لیبارٹری کے آلات اور کمپیوٹر فراہم کرنا بھی مفید ثابت ہوگا۔‘‘
شیوکمار نے بتایا کہ بنگلورو ساؤتھ ضلع کے 30 اسکولوں میں CSR فنڈز کے ذریعے ترقیاتی کام شروع کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 10 فیصد اسکولوں میں کام مکمل ہوچکا ہے، آٹھ اسکولوں میں کام جاری ہے، جبکہ 12 اسکولوں کے لیے معاہدوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
انہوں نے رام نگر ضلع میں ٹویوٹا کی جانب سے 23 اسکولوں کی تعمیر میں دی جانے والی مدد کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت ہر اسکول پر 10 سے 15 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
بنگلورو سے باہر بھی ترقی کی ضرورت
شیوکمار نے دلیل دی کہ بنگلورو سے باہر سرکاری اسکولوں میں نجی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ شہر پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور بھیڑ کو کم کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ ’’بنگلورو میں سڑکوں کی توسیع کی شرح محض 8 فیصد ہے، جبکہ میسورو میں یہ شرح 18 سے 20 فیصد کے درمیان ہے۔ بنگلورو کی آبادی 1.40 کروڑ ہے اور یہاں تقریباً 1.2 کروڑ گاڑیاں موجود ہیں۔ بچوں کو اسکول پہنچنے کے لیے تقریباً ایک گھنٹہ سفر کرنا پڑتا ہے۔ روزگار اور تعلیم بنگلورو میں بڑھتی ہوئی بھیڑ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر بچوں کو اپنے ہی گاؤں میں معیاری تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو اس سے بنگلورو پر بڑھتا ہوا دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘
انہوں نے نجی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ سرکاری اسکولوں میں سرمایہ کاری کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نجی اسکول سرکاری اسکولوں کی ترقی میں تعاون کرتے ہیں تو انہیں ان اسکولوں کے ساتھ اپنے نام منسلک کرنے کی اجازت بھی دی جائے گی۔



