Thursday, November 5, 2026
الرئيسيةﻗوﻣﯽﺧﺑرﯾںسپریم کورٹ کا ایس سی، ایس ٹی کے لیے محفوظ انتخابی حلقوں...

سپریم کورٹ کا ایس سی، ایس ٹی کے لیے محفوظ انتخابی حلقوں کی وقتاً فوقتاً گردش کا حکم دینے سے انکار

سپریم کورٹ نے کہا کہ محفوظ انتخابی حلقوں کی گردش سے متعلق فیصلے پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور عدالتیں اس سلسلے میں ہدایات جاری نہیں کرسکتیں۔

پی ٹی آئی

– درخواست میں اترپردیش کے ایک اسمبلی حلقے کو تقریباً سات دہائیوں سے درج فہرست ذاتوں کے لیے محفوظ رکھنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ (ایکس)

نئی دہلی، 4 نومبر:

سپریم کورٹ نے بدھ کے روز پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں درج فہرست ذاتوں (SC) اور درج فہرست قبائل (ST) کے لیے محفوظ انتخابی حلقوں کو لازمی طور پر وقتاً فوقتاً تبدیل کرنے کی درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کردیا۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے قانون ساز اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور عدالتیں اس سلسلے میں کوئی حکم جاری نہیں کرسکتیں۔

چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں مداخلت سے انکار کردیا، جس میں حد بندی ایکٹ 2002 کی دفعہ 9(1)(c) کو برقرار رکھا گیا تھا۔ اس دفعہ کے تحت ایسے علاقوں میں محفوظ انتخابی حلقوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جہاں درج فہرست ذاتوں اور قبائل کی آبادی کا تناسب نسبتاً زیادہ ہو۔

درخواست گزار جگدیش سنگھ، جو اترپردیش کے ضلع سلطان پور کے 191-کدی پور اسمبلی حلقے کے ووٹر ہیں، نے اس حلقے کو مسلسل درج فہرست ذاتوں کے لیے محفوظ رکھنے کو چیلنج کیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس حلقے کے قیام کے بعد سے تقریباً سات دہائیوں سے اسے محفوظ رکھا گیا ہے۔

انہوں نے دلیل دی کہ محفوظ حلقوں کی گردش کا کوئی طریقۂ کار موجود نہ ہونا آئین کی دفعات 14، 15 اور 19 کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق اس سے ووٹروں کے انتخابی اختیارات محدود ہوجاتے ہیں، کیونکہ وہ صرف درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں میں سے ہی کسی کو منتخب کرسکتے ہیں۔

درخواست گزار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ موجودہ نظام سے وسیع تر برادری کے مفادات کو فروغ دینے کے بجائے چند مخصوص سیاسی خاندانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

درخواست میں آئین کی دفعات 243D اور 243T کے تحت پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں میں ریزرویشن کی گردش کے نظام جیسا طریقہ اختیار کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ درخواست گزار نے بنچ سے مطالبہ کیا کہ ایس سی اور ایس ٹی کے لیے محفوظ انتخابی حلقوں کو بھی مقررہ وقفوں سے تبدیل کرنے کا نظام نافذ کرنے کی ہدایت دی جائے۔

سماعت کے دوران جسٹس باگچی نے کہا کہ کثیر جماعتی جمہوریت میں ووٹروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ذات یا مذہب کے بجائے سیاسی نظریات کی بنیاد پر اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔

جسٹس باگچی نے کہا کہ ’’سیاسی جمہوریت میں مختلف نظریات رکھنے والی متعدد سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں۔ ووٹروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پارٹی کو ووٹ دیں، نہ کہ مذہب کو۔ آپ کسی خاص سیاسی نظریے کو پسند یا ناپسند کرسکتے ہیں، لیکن اس نظریے کی نمائندگی کون کررہا ہے، یہ غیر اہم ہوجاتا ہے۔ آپ اس نظریے کو ووٹ دیتے ہیں۔ اس طرح آپ کی دلیل بھی بے اثر ہوجاتی ہے۔‘‘

بنچ نے ووٹ دینے کے حق اور کسی مخصوص انتخابی حلقے سے الیکشن لڑنے کے مبینہ حق کے درمیان فرق کو بھی واضح کیا۔ عدالت نے کہا کہ عام زمرے کے امیدوار ان حلقوں سے انتخاب لڑنے کے اہل رہتے ہیں جو کسی مخصوص طبقے کے لیے محفوظ نہیں ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کرنے کے لیے درخواست گزار نے غلط فورم سے رجوع کیا ہے۔ محفوظ حلقوں کی گردش کا مطالبہ پارلیمنٹ کے سامنے اٹھایا جانا چاہیے۔

چیف جسٹس نے قدرے ہلکے انداز میں یہ بھی کہا کہ درخواست گزار عوامی احتجاج اور مظاہروں کے ذریعے بھی اس مسئلے کو اٹھا سکتے ہیں۔

بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ ’’حد بندی ایکٹ کی دفعہ 9(1)(c) کو چیلنج کرنے والی درخواست کو زیر اعتراض فیصلے میں مسترد کردیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ بلدیاتی کارپوریشنوں کی طرح اسمبلی نشستوں کو بھی ایس ٹی اور ایس سی طبقات کے ارکان کے لیے باری باری محفوظ کیا جانا چاہیے۔‘‘

حکم میں مزید کہا گیا کہ ’’ہائی کورٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگرچہ اصولی طور پر محفوظ نشستوں کی گردش ہونی چاہیے، لیکن عدالت اس سلسلے میں ہدایت جاری نہیں کرسکتی، کیونکہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ ہمیں اس سے مختلف رائے اختیار کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔‘‘

تاہم، عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار اپنے عوامی نمائندوں سے رجوع کرنے اور انہیں محفوظ انتخابی حلقوں میں گردش کے اصول کو اپنانے کے لیے قائل کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine

الأكثر شهرة

احدث التعليقات