ملزم مبینہ طور پر دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا رشتہ دار بتایا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد وہ فرار ہو گیا، جس کی تلاش میں پولیس کی ٹیمیں مصروف ہیں۔
– پولیس کے مطابق رپتاڈو ضلع پریشد ہائی اسکول میں پیش آئے اس حملے میں دونوں طالبات زخمی ہو گئی ہیں۔
رپتاڈو، 31 اکتوبر:
آندھرا پردیش کے ضلع اننت پور میں ہفتہ کے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک شخص چین سا (Chainsaw) لے کر اچانک کلاس روم میں داخل ہوا اور دو طالبات پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں دونوں زخمی ہو گئیں۔
پولیس کے مطابق دونوں طالبات کو چوٹیں آئی ہیں، تاہم ان میں سے ایک کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے مزید بتایا کہ ملزم حملے کے بعد فرار ہو گیا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے اس واقعے میں سخت کارروائی کا یقین دلایا ہے۔
اننت پور رورل کے سب ڈویژنل پولیس افسر کے اشون منی دیپ نے بتایا کہ حملہ آور مبینہ طور پر دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا رشتہ دار ہے۔
منی دیپ نے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے چین سا سے حملے کی تصدیق کی اور کہا کہ لڑکی اپنے والدین کے ساتھ اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ پولیس واقعے سے متعلق مزید معلومات جمع کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ رپتاڈو ضلع پریشد ہائی اسکول کے کلاس روم میں دسویں جماعت کی طالبہ پر ہونے والے اس وحشیانہ حملے سے وہ شدید صدمے اور غصے میں ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’اسکولوں کے اندر ہماری کم عمر لڑکیوں کو نشانہ بنانے والے حملہ آوروں کے لیے ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ میں ذاتی طور پر طالبہ کی صحت یابی پر نظر رکھ رہا ہوں اور طبی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ اسے بہترین طبی سہولیات اور ترجیحی بنیادوں پر علاج فراہم کیا جائے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ’’میں نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ اس گھناؤنے جرم کے ذمہ دار ملزم کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور اسے قانون کے تحت سخت ترین سزا دلوائی جائے۔‘‘



