اپوزیشن اتحاد 31 اکتوبر کو دوپہر 2:30 بجے علامتی پروگرام منعقد کرے گا، جس کے بعد یکم نومبر کو رام لیلا میدان تک مارچ نکالا جائے گا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ انتخابی فہرستوں پر نظرِ ثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر احتجاج کر رہی ہیں۔ (پی ٹی آئی)
نئی دہلی، 30 اکتوبر:
انڈیا اتحاد کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف منعقد کیے جانے والے ’’عوامی مواخذے‘‘ کے پروگرام کو دہلی میں بارش کے باعث 31 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے جمعہ کے روز یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ کی رخصتی کی الٹی گنتی تیز ہو رہی ہے۔
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے دہرایا کہ یہ الگ الگ احتجاج نہیں بلکہ ایک ہی احتجاج ہے، جس میں اپوزیشن جماعتیں آئین کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ، 10 راجاجی مارگ کے باہر انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں راہل گاندھی نے کہا:
’’باہمی اتفاقِ رائے سے ہم نے بارش کی وجہ سے آج کا پروگرام کل تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمیں لگا کہ بزرگ رہنماؤں کے لیے بارش میں بیٹھنا مشکل ہوگا، اس لیے کل بھی وہی پروگرام منعقد کیا جائے گا۔‘‘
راہل گاندھی نے بتایا کہ یکم نومبر کو رام لیلا میدان تک ’’چلو دہلی‘‘ مارچ نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مارچ میں شامل ہونے کے خواہش مند تمام افراد کا خیرمقدم ہے، خواہ ان کا تعلق سیاسی جماعت سے ہو یا وہ غیر سیاسی ہوں۔
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف نے الزام لگایا کہ دونوں پروگرام وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سمیت الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کی جانب سے ہندوستانی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے خلاف ہیں۔
راہل گاندھی نے یہ بھی الزام لگایا کہ وزیر داخلہ لوگوں کو دہلی آنے سے روکنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہماری پارٹی کے کارکنوں اور ہزاروں عام لوگوں کو روکا جا رہا ہے۔ اب آپ یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں دیکھیں کہ کتنے لوگ پہنچتے ہیں اور کتنے لوگوں کو روکا جاتا ہے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ لوگوں میں شدید غصہ اور جذباتی تکلیف ہے، کیونکہ لاکھوں لوگوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے اور اڈانی، امبانی، مودی، شاہ اور بھاگوت کو فائدہ پہنچانے کے لیے ان کے ووٹ چھینے جا رہے ہیں۔‘‘
راہل گاندھی نے مزید کہا، ’’یہ کئی الگ الگ احتجاج نہیں ہیں بلکہ ایک ہی احتجاج ہے۔ پوری اپوزیشن یہاں متحد کھڑی ہے۔ جو بھی احتجاج کرنا چاہتا ہے، اس کا خیرمقدم ہے۔ ہم سب یہاں آئین، ہندوستان کے تصور اور ووٹ کے حق کے تحفظ کے لیے کھڑے ہیں، کیونکہ ووٹ ہی تمام ہندوستانیوں کی آواز ہے۔‘‘
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ مسلسل بارش کے باعث انڈیا جن بندھن کی جانب سے گیانیش کمار کے خلاف منعقد ہونے والا ’’عوامی مواخذے‘‘ کا پروگرام 31 اکتوبر کو دوپہر 2:30 بجے کے لیے دوبارہ طے کیا گیا ہے۔
اس کے بعد اتوار، یکم نومبر کو ’’چلو دہلی‘‘ کے نام سے رام لیلا میدان تک مارچ نکالا جائے گا۔
جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی ہدایت پر آئین کو نقصان پہنچانے اور اسے کمزور کرنے والے گیانیش کمار کی رخصتی کی الٹی گنتی تیز ہو رہی ہے۔
پریس کانفرنس میں راہل گاندھی کے ساتھ موجود ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رہنما ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ انڈیا اتحاد اس جدوجہد میں متحد ہے۔
انہوں نے کہا، ’’سول سوسائٹی، طلبہ، نوجوان، مزدور اور گھریلو خواتین، ہم سب اس جدوجہد میں ساتھ ہیں۔ آپ نے راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کے نمائندے کی بات سنی۔ میں ممتا بنرجی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ شیوسینا، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، آر ایس پی، سی پی آئی، آر جے ڈی، سی پی آئی (ایم ایل) اور دیگر جماعتیں بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ یہ ایک وسیع سیاسی اتحاد ہے اور ہم سب مل کر اس جدوجہد میں کامیاب ہوں گے۔‘‘
سماج وادی پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے کہا کہ عوام سمجھ چکے ہیں کہ بی جے پی جس کامیابی کا دعویٰ کرتی ہے، وہ دراصل انتخابی ہیرا پھیری اور انتظامی جوڑ توڑ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ای وی ایم سے لے کر ووٹر لسٹوں تک، ہر چیز میں بے ضابطگیاں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’اتر پردیش ایم ایل سی انتخابات کے نتائج کے ذریعے اساتذہ اور گریجویٹس نے واضح کر دیا ہے کہ اتر پردیش میں بی جے پی کتنی پیچھے ہے۔‘‘
اس احتجاج کی تیاریوں پر تبادلۂ خیال کے لیے انڈیا اتحاد کے کئی اہم رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کی۔ ان میں ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش اور کے سی وینوگوپال، ٹی ایم سی کے ڈیرک اوبرائن اور مہوا موئترا، سماج وادی پارٹی کے دھرمیندر یادو، شیوسینا (یو بی ٹی) کے اروند ساونت، سی پی آئی (ایم) کے جان بریٹاس، سی پی آئی کے پی سندوش کمار، آر جے ڈی کے سنجے یادو اور آر ایس پی کے این کے پریم چندرن سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے جمعرات کو بھی اجلاس منعقد کیا تھا، جس میں ووٹ چوری کے معاملے پر علامتی احتجاج کے لیے حتمی حکمت عملی تیار کی گئی۔ یہ پروگرام کھڑگے کی رہائش گاہ پر منعقد ہونا تھا۔
ذرائع کے مطابق سابق لوک سبھا اسپیکر میرا کمار انڈیا اتحاد کے اس ’’عوامی مواخذے‘‘ کی صدارت کریں گی۔ ملکارجن کھڑگے گیانیش کمار کے مواخذے کی قرارداد پیش کریں گے، جبکہ راہل گاندھی قرارداد منظور ہونے سے قبل اختتامی خطاب کریں گے۔
کھڑگے اور راہل گاندھی کے علاوہ ہر سیاسی جماعت سے ایک رہنما کو بھی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اس علامتی مواخذے کے دوران خطاب کرنے کا امکان ہے۔
کانگریس نے منگل کے روز دعویٰ کیا تھا کہ اسے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ’’عوامی مواخذے‘‘ کے انعقاد کی اجازت نہیں دی گئی۔ پارٹی نے الزام لگایا تھا کہ حکومت انتخابی نظام کو نقصان پہنچانے کے بعد اب عام لوگوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں انتخابی فہرستوں پر خصوصی جامع نظرِ ثانی (SIR) کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزام میں گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔



