کانگریس صدر نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ چوری شدہ عوامی مینڈیٹ کے ذریعے حکومتیں تشکیل دے رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مودی اور امت شاہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔
– رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ جمہوریت کو بچانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو اقتدار سے ہٹانا ضروری ہے۔ (پی ٹی آئی)
نئی دہلی، یکم نومبر:
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اتوار کے روز الزام لگایا کہ ملک میں مرکز سمیت بی جے پی کی کئی حکومتیں ’’چوری شدہ مینڈیٹ‘‘ کے ذریعے تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو اقتدار سے ہٹانا ضروری ہے۔
رام لیلا میدان میں ووٹ چوری کے الزامات پر انڈیا اتحاد کی جانب سے منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی الزام لگایا۔
کھڑگے نے کہا، ’’مودی اور شاہ نے دلتوں، نوجوانوں اور خواتین کے ووٹ چھیننے کی کوشش کی ہے۔ مودی جی اپنے آدمی گیانیش کمار کے ذریعے ان کے ووٹ چھیننا چاہتے ہیں۔ ہم اس وقت تک لڑائی جاری رکھیں گے جب تک وہ عہدے سے نہیں ہٹتے اور ہم ان کی رخصتی یقینی بنائیں گے۔‘‘
مودی اور شاہ پر گیانیش کمار کو بچانے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر زیرِ زمین بھی چھپ جائیں تو انہیں تلاش کر لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ’’چاہے مرکزی حکومت ہو یا مہاراشٹر، بہار اور اتر پردیش کی حکومتیں، یہ سب چوری کے مینڈیٹ سے بننے والی حکومتیں ہیں۔ ہمیں ان ووٹ چوروں کو اقتدار سے باہر کرنا ہوگا۔‘‘
کھڑگے نے اپنے خطاب میں نعرہ لگایا:
’’مودی جائے گا تو ہی جمہوریت بچے گی، مودی کو ہٹائیں گے تبھی جمہوریت بچائیں گے۔ مودی کو ہٹاؤ، جمہوریت بچاؤ۔‘‘
رام لیلا میدان میں منعقدہ اس ریلی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سابق کانگریس صدور سونیا گاندھی اور راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری ایم اے بیبی، سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ اور سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ سمیت کئی سینئر رہنما موجود تھے۔
اس سے قبل انڈیا اتحاد کے رہنما منٹو روڈ اور کناٹ پلیس کے چوراہے سے ایک کھلی گاڑی میں سوار ہو کر رام لیلا میدان کی جانب روانہ ہوئے۔ اس دوران سینکڑوں حامی بھی ان کے ساتھ پیدل مارچ کرتے ہوئے ریلی کے مقام تک پہنچے۔



