Wednesday, November 4, 2026
الرئيسيةﻗوﻣﯽﺧﺑرﯾںشدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے بی ایم سی...

شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے بی ایم سی کو دیا مرزا کی ویڈیو دوبارہ اپ لوڈ کرنے کی ہدایت دی

منگل کے روز بی جے پی نے اداکارہ دیا مرزا اور نصیرالدین شاہ پر ہندو تہواروں سے متعلق ماحولیاتی مسائل پر ’چنندہ احتجاج‘ کرنے کا الزام عائد کیا۔

پی ٹی آئی

ممبئی، 3 نومبر:

بامبے ہائی کورٹ نے منگل کے روز اداکارہ دیا مرزا کی جانب سے بی ایم سی کی ماحول دوست اور پٹاخوں سے پاک دیوالی مہم کے لیے بنائی گئی ویڈیو پر پیدا ہونے والے تنازعے پر ’گہرے دکھ اور ناراضگی‘ کا اظہار کیا اور شہری ادارے کو ہدایت دی کہ وہ اداکارہ کی ویڈیو دوبارہ اپ لوڈ کرے۔

جسٹس گریش کلکرنی اور جسٹس نیلا گوکھلے کی بنچ نے کہا کہ بعض افراد، خصوصاً عوام کی نمائندگی کرنے والے لوگوں کی ’تنگ نظری‘ پر عدالت کو شدید دکھ پہنچا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ماحولیات، فضائی آلودگی اور صوتی آلودگی کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ویڈیو کو اس طرح کے رنگ میں پیش کرنا ’انتہائی افسوسناک‘ ہے۔

عدالت نے کہا کہ بی ایم سی کمشنر کا بیداری مہم کے لیے معروف شخصیات کا انتخاب بالکل درست تھا اور یہ افسوسناک ہے کہ دیگر غیر ضروری معاملات کو تنازعے کا موضوع بنایا گیا۔

بنچ نے بی ایم سی کو ہدایت دی کہ وہ اداکارہ دیا مرزا کی اس ویڈیو کو دوبارہ اپ لوڈ کرے، جسے پیر کے روز بی جے پی کے بعض رہنماؤں اور ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے کے اعتراضات کے بعد ہٹا دیا گیا تھا۔

عدالت نے اعتراضات اٹھانے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مذہب، ذات اور عقیدے سے قطع نظر معاشرے کے ہر فرد کا احترام کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے کہا، ’’سیکولر جذبہ ہونا ضروری ہے اور آئین بھی شہریوں سے اسی جذبے کو فروغ دینے کی توقع رکھتا ہے۔ اگر ویڈیو ہٹا دی گئی ہے تو بہتر یہی ہوگا کہ اسے دوبارہ اپ لوڈ کیا جائے۔‘‘

بنچ نے کہا کہ ممبئی جیسا شہر اتحاد اور معاشرے سے مضبوط وابستگی کے جذبے کی بنیاد پر قائم ہے اور کسی کے غیر ذمہ دارانہ تبصروں سے اس ماحول کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ عوامی عہدوں پر فائز افراد سے اس طرح کے رویے کی توقع نہیں کی جاتی۔ بنچ نے مزید کہا کہ تنازعہ پیدا ہونے کے بعد بی ایم سی کو بھی دیا مرزا کی ویڈیو نہیں ہٹانی چاہیے تھی اور شہری ادارے کو اداکارہ کی ویڈیو دوبارہ اپ لوڈ کرنے کی ہدایت دی۔

بی جے پی کی دیا مرزا اور نصیرالدین شاہ پر تنقید

بی جے پی نے منگل کے روز اداکارہ دیا مرزا اور نصیرالدین شاہ پر ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے ’چنندہ انداز میں تشویش‘ ظاہر کرنے کا الزام لگایا۔ پارٹی کا دعویٰ تھا کہ یہ دونوں دیگر مذاہب کے تہواروں کے دوران آلودگی سے متعلق معاملات پر خاموش رہتے ہیں، لیکن ہندو تہواروں کے موقع پر ایسے مسائل کو اٹھاتے ہیں۔

بی جے پی کے ترجمان گورو بھاٹیہ نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’یہ چنندہ پیغام رسانی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ لوگوں کو ماحولیات کا خیال رکھنا چاہیے۔ لیکن جب عید اور بقرعید آتی ہے اور بکرے ذبح کیے جانے کے باعث آبی آلودگی ہوتی ہے تو نصیرالدین شاہ اور دیا مرزا جیسے لوگ ایک لفظ بھی نہیں بولتے۔‘‘

بی جے پی ترجمان نے کہا کہ انہوں نے ہائی کورٹ کا حکم نہیں دیکھا ہے، اس لیے وہ اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ ہندو تہواروں کے دوران ماحولیاتی تحفظ اور صوتی آلودگی پر تشویش ظاہر کرنے والے بعض افراد دیگر مذاہب کے تہواروں کے موقع پر خاموش رہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح چنندہ انداز میں تشویش ظاہر کرنے سے ان افراد کی ساکھ متاثر ہوتی ہے جو ایسے مسائل اٹھاتے ہیں۔

دیا مرزا کی ویڈیو ہٹا دیے جانے کے باوجود اداکارہ مادھوری دکشت اور نشی گندھا واڈ کے علاوہ کرکٹر اجنکیا رہانے کی اسی نوعیت کی ویڈیوز بی ایم سی کے ایکس اور انسٹاگرام صفحات پر موجود تھیں۔

اداکار نصیرالدین شاہ نے حال ہی میں طلبہ کے احتجاج کی حمایت میں ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں انہوں نے خود کو ’ملک مخالف‘ اور ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘ جیسے القابات سے جوڑتے ہوئے کہا تھا، ’’میں ایک دماغی نکسل ہوں۔‘‘

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine

الأكثر شهرة

احدث التعليقات