انہوں نے الزام لگایا کہ سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے کو امریکہ سے فنڈز ملے، جبکہ شریک بانی اشوتوش رانکا کو پاکستان سے رقم حاصل ہوئی۔
پی ٹی آئی
بنگلورو، 3 نومبر:
مرکزی وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے منگل کے روز الزام لگایا کہ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت ڈپکے کو امریکہ سے فنڈز حاصل ہوئے ہیں، جبکہ پارٹی کے شریک بانی اشوتوش رانکا کو پاکستان سے رقم ملی ہے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے خلاف چلائی جا رہی مہم کو ہندوستان مخالف تنظیمیں اور بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے والے گروپ، بشمول پاکستانی سیاست دان، مالی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے خود ساختہ کارکنوں پر جھوٹا بیانیہ تیار کرنے کا بھی الزام لگایا۔
یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے ان الزامات کے سلسلے میں ابھیجیت ڈپکے اور اشوتوش رانکا کے نام لیے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمے کے وزیر مملکت نے کہا کہ بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز)، ڈیپ اسٹیٹ کے عناصر اور ہندوستان مخالف طاقتیں اس مہم کے پیچھے ہیں۔ انہوں نے غیر ملکی فنڈز کی آمد کو روکنے کے لیے فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (FCRA) کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا، ’’اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ انہیں غیر مجاز ذرائع سے فنڈنگ حاصل ہو رہی ہے، جن میں ملک کے اندر اور باہر سرگرم ہندوستان مخالف این جی اوز اور تنظیمیں شامل ہیں۔‘‘
وزیر نے الزام لگایا، ’’جن لوگوں نے خود کو رہنما مقرر کرلیا ہے، وہ بیرونی ذرائع سے فنڈز حاصل کر رہے ہیں۔ ڈپکے کو امریکہ میں مقیم عطیہ دہندگان سے رقم مل رہی ہے۔ اشوتوش رانکا کو پاکستانی سیاست دانوں نے ادائیگی کی ہے اور وہ اپنے سرپرستوں کے ذریعے بھی فنڈز حاصل کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر مخالف مہم میں حصہ لینے والی ایک خاتون کو بھی آپریشن سندور کے دوران فنڈز مل رہے تھے۔
سنگھ نے کہا کہ انٹیلی جنس معلومات اور دستیاب اعداد و شمار سے تین باتیں ثابت ہوتی ہیں: ایس آئی آر کے خلاف لگائے گئے الزامات کی کوئی بنیاد یا ثبوت نہیں ہے؛ یہ الزامات لگانے والے افراد کی ساکھ مشکوک ہے اور ان کی فنڈنگ کے ذرائع اور وسائل جمع کرنے کے طریقوں کی جانچ ہونی چاہیے؛ اور اپنی سیاسی زمین کھوتے ہوئے یہ عناصر جھوٹا بیانیہ تیار کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپوزیشن پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ تعلیم اور امتحانات میں بے ضابطگیوں کے معاملات کو اس بات کے مطابق اٹھاتی ہے کہ متعلقہ ریاست میں کس پارٹی کی حکومت ہے۔
سنگھ نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’جب بھی انہیں کوئی مسئلہ ملتا ہے، وہ اسے اپنے حساب سے اٹھاتے ہیں۔ پہلے انہوں نے تعلیم کا مسئلہ اٹھایا، لیکن وہ معاملہ دہلی کا تھا، پنجاب یا کرناٹک کا نہیں۔ جہاں بھی کانگریس اقتدار میں ہے، وہاں مبینہ طور پر سب کچھ ٹھیک ہے۔‘‘
امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے معاملے پر کانگریس سے سوال کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا کہ پنجاب میں نیٹ (NEET) کا معاملہ کیوں نہیں اٹھایا گیا اور کرناٹک میں پرچے لیک ہونے کی اطلاعات کے بعد ریاست کے وزیر تعلیم نے استعفیٰ کیوں نہیں دیا۔
انہوں نے کہا، ’’کیا پنجاب میں پرچے لیک نہیں ہوئے؟ حالیہ پرچے کرناٹک میں لیک ہوئے ہیں۔ کرناٹک کے وزیر تعلیم نے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ پنجاب میں بھی پرچے لیک ہوئے تھے۔ اس طرح کی چنندہ سیاست اب ہندوستان کے عوام کو مزید گمراہ نہیں کر سکے گی۔‘‘
سنگھ نے کہا کہ عوام، خصوصاً نوجوان نسل، اب پہلے سے زیادہ باخبر ہے اور سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے دعوؤں اور جوابی دعوؤں کی حقیقت جانچ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں اس جھوٹے تصور کو بھرپور طریقے سے بے نقاب کرنا چاہیے اور خصوصاً کرناٹک کے عوام تک حقائق پہنچانے چاہئیں۔ ہمیں چوکس رہنا ہوگا اور ایسے انتشار پسند اور شرپسند عناصر سے خبردار رہنا ہوگا۔‘‘
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ جو لوگ بیلٹ باکس کے ذریعے انتخابات جیتنے میں ناکام رہتے ہیں، وہ اپنی مہم کو سڑکوں پر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن سے متعلق سوالات کو مودی حکومت کو نشانہ بنانے کا بہانہ قرار دیتے ہوئے سنگھ نے اپوزیشن پر تنقید کی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر اعتراض کیا۔
انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں یہ عمل 12 مرتبہ انجام دیا جاچکا ہے، جن میں سے 10 مرتبہ کانگریس کے دورِ حکومت میں ہوا تھا۔
انہوں نے سابق مرکزی وزیر کپل سبل کے اس سابقہ بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے ایس آئی آر کو ایک ’’معمول کی کارروائی‘‘ قرار دیا تھا۔
سنگھ نے کہا کہ انتخابی فہرستوں سے ایسے ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے یہ کارروائی ضروری ہے جو فوت ہوچکے ہیں، اپنا رہائشی مقام تبدیل کرچکے ہیں، جن کے نام ایک سے زیادہ مرتبہ درج ہیں یا جن کا سراغ نہیں مل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آخری مرتبہ ایس آئی آر کا عمل 20 سال قبل انجام دیا گیا تھا۔
کانگریس کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہ 13 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں، سنگھ نے کہا کہ اس تعداد میں 6.03 کروڑ ایسے افراد شامل ہیں جو اپنا رہائشی مقام تبدیل کرچکے ہیں، تین کروڑ افراد کا سراغ نہیں مل سکا، تقریباً 2.80 کروڑ ووٹر فوت ہوچکے ہیں، جبکہ دیگر معاملات میں دوہرے اندراجات شامل ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف کرناٹک میں 7.10 لاکھ دوہرے ووٹر اور 24.17 لاکھ فوت شدہ ووٹر موجود تھے۔
سنگھ نے کہا، ’’اگر الیکشن کمیشن نے ایسے ناموں کو حذف کیا ہے تو اس نے ملک کی خدمت کی ہے۔ اس نے ہندوستانی جمہوریت کو مضبوط بنانے کی سمت میں کام کیا ہے۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتیں اس کارروائی کی مخالفت اس لیے کر رہی ہیں کیونکہ انہیں فرضی اور دوہرے ووٹوں سے فائدہ حاصل ہوتا رہا ہے۔
سنگھ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا ہے اور الیکشن کمیشن کے کردار کو ’’متناسب، قانونی اور ضروری‘‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ فارم-6 میں تبدیلی کی گئی ہے یا ایس آئی آر کے اعداد و شمار سے شہریوں کی پاسپورٹ حاصل کرنے کی اہلیت متاثر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاسپورٹ کے عمل میں ایس آئی آر کے اعداد و شمار استعمال نہیں کیے جاتے۔
نوجوان ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کے الزامات پر انہوں نے کہا کہ جون 2025 سے اب تک 18 سے 28 سال کی عمر کے 2.37 کروڑ ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں میں شامل کیے گئے ہیں۔
ایس آئی آر کے معاملے پر کانگریس پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ جن ریاستوں میں کانگریس کی حکومت ہے، وہاں پارٹی اس کارروائی کو درست قرار دیتی ہے، جبکہ دیگر ریاستوں میں اس کی مخالفت کرتی ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’کرناٹک میں ایس آئی آر درست ہے۔ جن ریاستوں میں کانگریس کی حکومت ہے، وہاں بھی ایس آئی آر درست ہے۔ لیکن جہاں کانگریس اقتدار میں نہیں ہے، وہاں ایس آئی آر غلط ہے۔‘



