ایک وکیل نے فضائی کرایوں میں تقریباً 700 فیصد اضافے کا الزام لگاتے ہوئے فوری سماعت کی درخواست کی تھی، جس پر عدالت نے یہ تبصرہ کیا۔
پی ٹی آئی
– عدالت نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ 16 نومبر کو اگلی سماعت کے دوران شائع شدہ ہوا بازی کے قوانین عدالت میں پیش کرے۔ (کینوا)
نئی دہلی، 2 نومبر:
سپریم کورٹ نے پیر کے روز فضائی کرایوں میں تقریباً 700 فیصد اضافے کا الزام لگانے والی درخواست پر فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے درخواست گزار سے کہا کہ ’’ہوائی جہاز سے سفر نہ کریں۔‘‘
جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس اپریش کمار سنگھ پر مشتمل بنچ کے سامنے ایک وکیل نے اس معاملے کو فوری سماعت کے لیے پیش کیا۔
وکیل نے کہا، ’’ہوائی سفر کے کرایوں میں 700 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔‘‘
اس پر بنچ نے تبصرہ کیا، ’’ہوائی جہاز سے سفر نہ کریں۔‘‘
اس کے بعد وکیل نے کہا کہ ہوائی سفر ایک ضروری خدمت ہے اور اس طرح کرایوں میں اضافہ آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ آئین کا آرٹیکل 14 قانون کے سامنے مساوات کے حق سے متعلق ہے۔
سپریم کورٹ پہلے ہی سماجی کارکن ایس ایل لکشمی نارائنن کی جانب سے دائر ایک الگ درخواست پر سماعت کر رہی ہے۔ اس درخواست میں شہری ہوا بازی کے پورے شعبے میں شفافیت اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط اور آزاد ریگولیٹر قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بھارت میں نجی ایئرلائنز کی جانب سے فضائی کرایوں اور اضافی خدمات کے لیے وصول کیے جانے والے چارجز میں ’’غیر متوقع اتار چڑھاؤ‘‘ کو کنٹرول کرنے کے لیے ضابطہ جاتی رہنما اصول وضع کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
16 اکتوبر کو اس درخواست پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ بھارت کے ہوا بازی کے شعبے کو منظم کرنے کے مقصد سے 2024 کے قانون کے تحت قواعد وضع کرنے کے لیے انتظامی منظوری دے دی گئی ہے اور امکان ہے کہ انہیں دو ہفتوں کے اندر شائع کر دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کو ہدایت دی تھی کہ وہ اگلی سماعت یعنی 16 نومبر کو بھارتیہ وایویان ادھینیم 2024 کے تحت شائع کیے گئے قواعد عدالت میں پیش کریں۔
17 اگست کو بھی مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ بھارتیہ وایویان ادھینیم کے تحت قواعد تیار کرنے کے عمل میں تیزی لائی گئی ہے، جس کا مقصد ملک کے ہوا بازی کے شعبے کو جدید بنانا ہے۔
گزشتہ سال نومبر میں سپریم کورٹ نے لکشمی نارائنن کی درخواست پر مرکزی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین سے جواب طلب کیا تھا۔
جنوری میں اس معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وہ فضائی کرایوں میں ہونے والے ’’غیر متوقع اتار چڑھاؤ‘‘ کے معاملے میں مداخلت کرے گی۔ عدالت نے تہواروں کے دوران فضائی کرایوں میں ہونے والے غیر معمولی اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔
عدالت نے ایئرلائنز کی جانب سے کرایوں میں بھاری اضافے کو ’’استحصال‘‘ قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کو درخواست پر اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔



