ای 20 کے خلاف تنقید کو ’من گھڑت بیانیہ‘ قرار دیتے ہوئے غلط معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
پی ٹی آئی
پنجی، 27 اکتوبر:
مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے منگل کے روز کہا کہ مرکزی حکومت کا فی الحال پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش کو موجودہ 20 فیصد سے زیادہ بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
جنوبی گوا میں منعقدہ 29ویں انرجی ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن میٹ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پوری نے کہا کہ 20 فیصد آمیزش ہی مقررہ ہدف ہے اور اس سے آگے بڑھنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ حیاتیاتی ایندھن (بایو فیول) کے بارے میں غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں اور ای 20 (E20) پر ہونے والی تنقید کو ایک ’’من گھڑت بیانیہ‘‘ قرار دیا۔
پوری نے کہا کہ ای 20 ایندھن کے مطابق تیار کی گئی گاڑیاں اس کے استعمال کے لیے موزوں ہیں، تاہم 2003 سے پہلے تیار کی گئی پرانی گاڑیوں کو کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ای 20 کے استعمال سے حکومت کو ایک لاکھ 60 ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوئی، جس میں سے ایک لاکھ 40 ہزار کروڑ روپے کسانوں تک پہنچے۔
انجن کو نقصان پہنچنے کے دعوؤں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک آٹوموبائل کمپنی نے یہ الزام لگانے والے شخص کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔
انہوں نے دلیل دی کہ ملک بھر میں روزانہ تقریباً چھ کروڑ گاڑیاں ایندھن بھرنے کے مراکز پر پہنچتی ہیں، اگر انجن کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہوتا تو یہ بات واضح ہو چکی ہوتی۔
دریں اثنا، وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ نے پیر کے روز مرکزی موٹر وہیکل رولز 1989 میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے تحت فلیکس فیول گاڑیوں کو اجازت دی گئی ہے۔ یہ گاڑیاں E100 یعنی تقریباً خالص ایتھنول تک کے ایندھن پر چل سکتی ہیں۔
حکومت کی جانب سے فوسل فیول کی درآمدات پر ہونے والے اخراجات کم کرنے کی کوششوں کے درمیان ٹویوٹا، ٹاٹا موٹرز اور ہنڈائی بھارت کے لیے فلیکس فیول گاڑیاں تیار کر رہی ہیں۔
عالمی سطح پر ریفائننگ صلاحیت میں کمی کے درمیان بھارت اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے تیار
دریں اثنا، پوری نے منگل کے روز کہا کہ بھارت عالمی ریفائننگ مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے۔ ملک کی تیل صاف کرنے کی صلاحیت موجودہ تقریباً 290 ملین ٹن سالانہ سے بڑھ کر 2030 تک 300 ملین ٹن ہو جائے گی۔
موجودہ ریفائنریز کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ تین ملین ٹن سالانہ صلاحیت والے یونٹس کو بڑھا کر چھ ملین ٹن، جبکہ چھ ملین ٹن صلاحیت والے یونٹس کو بڑھا کر نو ملین ٹن کیا جا رہا ہے۔
پوری نے کہا کہ اس توسیع سے بھارت نہ صرف اپنی ملکی ضروریات پوری کر سکے گا بلکہ بیرونِ ملک مزید پیٹرولیم مصنوعات بھی برآمد کر سکے گا۔ اس کے لیے برآمدات پر پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
یورپ کے ساتھ بھارت کا موازنہ کرتے ہوئے، جہاں ہر سال کم از کم 2 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ ریفائننگ صلاحیت کم ہو رہی ہے، انہوں نے کہا:
’’دوسرے ممالک کی صلاحیت کم ہو رہی ہے، جبکہ ہماری بڑھ رہی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ سمندر منتھن اور گوبردھن (GOBARdhan) جیسے اقدامات کو بھی مزید رفتار حاصل ہوگی۔



