اسٹارلنک کا کہنا ہے کہ اس نے بھارت میں مخصوص نظام، گیٹ ویز اور دیگر بنیادی ڈھانچہ تیار کیا ہے تاکہ بھارتی صارفین کے انٹرنیٹ ٹریفک کو محفوظ طریقے سے خصوصی طور پر خدمات فراہم کی جا سکیں۔
– اسٹارلنک کے مطابق، وہ گزشتہ پانچ سال سے زائد عرصے سے بھارتی ریگولیٹرز اور ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ کام کر رہی ہے اور اس نے ملک میں مخصوص بنیادی ڈھانچہ بھی تیار کیا ہے (ایکس)
نئی دہلی، 16 اکتوبر
ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک نے جمعہ کو کہا کہ وہ گزشتہ پانچ سال سے زائد عرصے سے بھارت کے ریگولیٹری اداروں، صنعت اور ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور اس نے ملک میں تمام ضروری سرکاری منظوریوں کے ساتھ مخصوص بنیادی ڈھانچہ تیار کیا ہے۔ کمپنی نے اس بات پر زور دیا کہ وہ بھارت میں تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اسٹارلنک کی پوسٹ میں ریلائنس انڈسٹریز کے اس بیان کو بھی ٹیگ کیا گیا جو مکیش امبانی کی قیادت والی کمپنی نے اسی روز جمعہ کو جاری کیا تھا۔ ریلائنس نے کہا تھا کہ وہ سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے شعبے میں اسٹارلنک سمیت تمام کمپنیوں کے ساتھ مقابلے کا خیرمقدم کرتی ہے، تاہم تمام کمپنیوں کے لیے بھارتی قوانین کی پابندی لازمی ہے۔
اسٹارلنک نے ایکس پر جواب دیتے ہوئے کہا:
’’ہم گزشتہ پانچ سال سے زائد عرصے سے بھارت میں ریگولیٹرز، صنعت اور آپریٹرز کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ ہم نے ملک کے اندر مخصوص نظام، گیٹ ویز اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر مشتمل ایک نیٹ ورک تیار کیا ہے، جو خصوصی طور پر بھارتی انٹرنیٹ ٹریفک کو محفوظ اور قابلِ اعتماد طریقے سے خدمات فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ تمام کام ضروری سرکاری منظوریوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔‘‘
اسٹارلنک نے مزید کہا کہ وہ بھارت کو تیز رفتار انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کے لیے تیار ہے۔
جمعہ کے روز ہونے والی یہ بیان بازی بھارت کی سیٹلائٹ کمیونیکیشن مارکیٹ میں مقابلے کے حوالے سے جاری عوامی تنازع کے درمیان سامنے آئی ہے۔ ایلون مسک نے بھارت کے سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے یہاں مسابقتی ماحول سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔
دوسری جانب ریلائنس نے کہا کہ حقیقی مسابقتی مارکیٹ ہی اس بات کا بہترین امتحان ہے کہ کون سی کمپنی صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت میں کام کرنے والی ہر کمپنی کو ملکی قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔
مسک کی حالیہ تنقید کا براہِ راست جواب دیتے ہوئے ریلائنس نے جمعہ کو کہا کہ وہ ’’حقائق کو ریکارڈ پر رکھنا‘‘ چاہتی ہے۔
کمپنی نے اپنے بیان میں کہا، ’’ریلائنس نے کبھی مقابلے سے خوف محسوس نہیں کیا۔ ہم مسابقت کو اس بات کا سب سے حقیقی امتحان سمجھتے ہیں کہ کون صارفین کو بہترین خدمات فراہم کرتا ہے۔‘‘
ریلائنس نے اپنے مؤقف کی حمایت میں جیو کی کامیابیوں کا حوالہ بھی دیا۔ کمپنی کے مطابق، جیو نے 2016 میں بھارت کی پہلے ہی سے مسابقتی ٹیلی کام مارکیٹ میں ایک نئے آپریٹر کے طور پر قدم رکھا تھا، اس وقت اس کا ایک بھی صارف نہیں تھا۔ لیکن صرف دس سال کے عرصے میں جیو نے 53 کروڑ سے زائد صارفین کا اعتماد حاصل کرلیا اور بھارتی عوام کو دنیا کے بہترین ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور سستے ترین انٹرنیٹ ڈیٹا میں سے ایک فراہم کیا۔
ریلائنس کے بیان میں کہا گیا، ’’ہم اسٹارلنک سمیت سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے شعبے میں مقابلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ جیو سمیت ہر کمپنی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کے عوام کی خدمت کرے اور ملک کے قوانین و پالیسیوں کی پابندی کرے۔‘‘
کمپنی نے مزید کہا کہ بھارت میں سرمایہ کاری اور جدت طرازی کے لیے کھلا ماحول، خواہ وہ مقامی ہو یا بین الاقوامی، قانون کی حکمرانی پر قائم ہے۔
بیان کے مطابق، ’’دیگر بھارتی کاروباری اداروں کی طرح ریلائنس نے بھی ایسے بھارت میں ترقی کی ہے جو عوام کی زندگی بہتر بنانے والی مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری اور جدت طرازی کا خیرمقدم کرتا ہے۔ یہ کھلا ماحول قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے۔‘‘
ریلائنس نے کہا کہ حکومت ہر درخواست گزار کے ساتھ یکساں طریقہ کار اختیار کرتی ہے، خواہ وہ بھارتی کمپنی ہو یا غیر ملکی۔ کمپنی نے مزید بتایا کہ جیو کی اپنی سیٹلائٹ خدمات بھی ابھی منظوریوں کی منتظر ہیں۔
اسٹارلنک اور مسک کے حالیہ بیانات سے متعلق تنازع پر حکومتی ذرائع پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ بھارت میں کام کرنے والی ہر کمپنی کو ملکی قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق، مرکزی حکومت کا مؤقف ابتدا سے ہی واضح اور مستقل رہا ہے۔
حکومتی ذرائع نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا:
’’حکومت کا مؤقف بالکل واضح رہا ہے اور جب کمپنیوں نے درخواست دی تھی، تب بھی یہی بات کہی گئی تھی کہ اگر آپ بھارتی قوانین کی پابندی نہیں کرتے تو یہاں کاروبار نہیں کر سکتے۔ لہٰذا بھارت میں کاروبار کرنے کے لیے بھارتی قوانین پر عمل کرنا ضروری ہے۔‘‘
حال ہی میں بلومبرگ نیو اکانومی فورم 2026 میں بھارتی ایئرٹیل کے چیئرمین سنیل متل نے کہا تھا کہ ان کا سیٹلائٹ کمیونیکیشن منصوبہ، یوٹلسٹ ون ویب (Eutelsat OneWeb)، بھارت میں خدمات شروع کرنے کی منظوری حاصل کرنے کی دوڑ میں ایلون مسک کی اسٹارلنک سے کافی آگے ہے۔
ان کے اس بیان نے بھارت کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ مارکیٹ میں ریگولیٹری منظوریوں اور مسابقت کے حوالے سے جاری تنازع کو مزید بڑھا دیا۔
متل نے کہا، ’’میرے خیال میں میں اس معاملے میں ان سے کافی آگے ہوں۔ میں نے پانچ سال پہلے درخواست دی تھی۔ ہمیں ابھی تک اجازت نہیں ملی، اس لیے ہمیں خوشی ہوگی اگر ہمیں کم از کم ان سے چند دن پہلے اجازت مل جائے۔‘‘
متل کے مطابق، ون ویب کا زمینی نیٹ ورک گزشتہ تین سال سے تیار ہے اور اس کے سیٹلائٹس گزشتہ پانچ سال سے بھارت کے اوپر موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود کمپنی تجارتی خدمات شروع کرنے کی اجازت کی منتظر ہے۔
متل اور اب ریلائنس کی جانب سے سامنے آنے والا ردعمل اس وقت سامنے آیا جب دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے الزام لگایا کہ بھارت کے طاقتور کاروباری مفادات اسٹارلنک کی ملک میں آمد کو روک رہے ہیں۔
مسک نے حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد پوسٹس میں ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں انہیں ’’وزیراعظم امبانی‘‘ کہہ کر مخاطب کیا اور سوال اٹھایا کہ آیا بھارتی فیصلوں پر ان کا اثر و رسوخ وزیراعظم نریندر مودی سے بھی زیادہ ہے۔
مسک نے الزام لگایا کہ بعض کاروباری گروپ بھارتی صارفین پر اپنی ’’اجارہ داری کی گرفت‘‘ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
تاہم، وزارتِ مواصلات نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے کہ ریگولیٹری نظام یا اس کے اطلاق میں کسی قسم کی ناانصافی یا امتیاز برتا جا رہا ہے، ’’بے بنیاد اور غلط فہمی پر مبنی‘‘ ہیں۔
حکومت نے واضح کیا کہ تمام سیٹلائٹ آپریٹرز کو تجارتی خدمات شروع کرنے سے پہلے یکساں ریگولیٹری شرائط پوری کرنا ہوں گی، جن میں سکیورٹی سے متعلق تقاضے اور اسپیکٹرم کی تقسیم کے قواعد شامل ہیں۔
وزیرِ مواصلات جیوتیرادتیہ سندھیا نے کہا ہے کہ تین منصوبوں، یعنی ایلون مسک کی اسٹارلنک، ریلائنس کی جیو سیٹ کام اور بھارتی ایئرٹیل کی حمایت یافتہ یوٹلسٹ ون ویب کو سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے لائسنس مل چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایمازون کے پروجیکٹ کوئپر نے بھی اس شعبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم اسے بھی مقررہ طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔
سندھیا نے واضح کیا کہ اسپیکٹرم اس وقت مختص کیا جائے گا جب حکومت آمدنی پر مبنی چارجنگ کا نظام حتمی شکل دے دے گی اور متعلقہ آپریٹرز سکیورٹی کے تقاضے پورے کر لیں گے۔
ان کے مطابق، ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (TRAI) اور محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن (DoT) سیٹلائٹ اسپیکٹرم کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے فیصلے کے قریب ہیں۔
اس تنازع میں لائسنس اور تجارتی خدمات شروع کرنے کی اجازت کے درمیان فرق انتہائی اہم ہے۔ صرف لائسنس حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کمپنی فوراً تجارتی خدمات شروع کر سکتی ہے۔ اس کے لیے اسپیکٹرم کی تخصیص اور سکیورٹی سے متعلق تمام شرائط پوری کرنا بھی ضروری ہے۔
یہ تنازع ریلائنس کے لیے ایک اہم وقت پر سامنے آیا ہے، کیونکہ کمپنی اپنے ڈیجیٹل سروسز کاروبار جیو پلیٹ فارمز (Jio Platforms) کے ابتدائی عوامی حصص کی پیشکش (IPO) کی تیاری کر رہی ہے۔
جیو نے اپنے آئی پی او کے تحت 27 کروڑ تک نئے حصص، جو کمپنی کے موجودہ حصص کے تقریباً 3 فیصد کے برابر ہیں، کے لیے فی حصص 1,065 سے 1,119 روپے کی قیمت مقرر کی ہے۔ اس پیشکش میں موجودہ حصص کی فروخت (Offer for Sale) شامل نہیں ہے۔
قیمت کی بالائی حد کے مطابق، اس حصص کی فروخت سے تقریباً 30,213 کروڑ روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یہ رقم اکتوبر 2024 میں ہنڈائی موٹر انڈیا کے 27,870 کروڑ روپے کے حصص کی فروخت سے زیادہ ہوگی، جو اس وقت ملک کی سب سے بڑی حصص فروخت تھی۔
اس قیمت کے مطابق جیو پلیٹ فارمز کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 10.3 لاکھ کروڑ روپے بنتی ہے، جو اس 11 لاکھ کروڑ روپے سے کم ہے جس کی توقع پہلے ظاہر کی جا رہی تھی۔
آئی پی او کے لیے بولیاں 21 سے 23 اکتوبر تک جمع کی جائیں گی، جبکہ اینکر سرمایہ کار 19 اکتوبر کو بولی لگا سکیں گے۔ کمپنی کے حصص کی اسٹاک مارکیٹ میں تجارت 28 اکتوبر سے شروع ہونے کی توقع ہے۔
ریلائنس اپنے سیٹلائٹ منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ ان میں تقریباً 1,600 لو ارتھ آربٹ (LEO) سیٹلائٹس پر مشتمل ایک مجوزہ نیٹ ورک شامل ہے، جس کا مقصد بھارت کے چھ لاکھ دیہات تک انٹرنیٹ کی سہولت پہنچانا ہے۔
اس منصوبے کے ذریعے جیو، اسٹارلنک کے ساتھ براہِ راست مقابلے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔ اسٹارلنک بھی بھارت جیسی وسیع مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں سیٹلائٹ براڈبینڈ انٹرنیٹ دور دراز علاقوں اور ان مقامات کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے جہاں زمینی نیٹ ورک کی سہولت محدود ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ریلائنس اور اسپیس ایکس نے گزشتہ سال ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت جیو کے ریٹیل نیٹ ورک کے ذریعے بھارتی صارفین تک اسٹارلنک کی خدمات پہنچانے کے امکانات تلاش کیے جانے تھے۔



