Monday, November 2, 2026
الرئيسيةسیاستخشک سالی سے نمٹنے کے لیے 20,585 کروڑ روپے کی امداد فوری...

خشک سالی سے نمٹنے کے لیے 20,585 کروڑ روپے کی امداد فوری جاری کی جائے: پرمیشورا کی مودی اور شاہ سے اپیل

کرناٹک کے 226 خشک سالی سے متاثرہ تعلقوں میں فصلوں کے نقصانات، کسانوں کی امداد، پینے کے پانی کی فراہمی اور مویشیوں کے تحفظ کے لیے مرکزی حکومت سے مالی مدد طلب

بنگلورو (سالار نیوز): کرناٹک کے وزیر داخلہ جی پرمیشورا نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان سے اپیل کی ہے کہ ریاست میں خشک سالی سے متاثرہ کسانوں اور عوام کو راحت پہنچانے کے لیے 20,585.73 کروڑ روپے کی مالی امداد جلد از جلد جاری کی جائے۔

مرکزی حکومت کو لکھے گئے خطوط میں پرمیشورا نے کہا کہ کرناٹک کو شدید خشک سالی کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار، کسانوں کی آمدنی اور دیہی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے قومی آفات سے نمٹنے کے فنڈ (این ڈی آر ایف) کے تحت فوری مالی امداد فراہم کرنے کی درخواست کی۔

انہوں نے بتایا کہ جنوب مغربی مانسون کے دوران ریاست میں معمول سے تقریباً 35 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی۔ معمول کے مطابق 852 ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی، لیکن صرف 551 ملی میٹر بارش ہوئی۔ یہ صورتحال ریاست میں پانی کی قلت اور زرعی بحران کا سبب بنی ہے۔

ریاستی حکومت کے جائزے کے مطابق کرناٹک کے 226 تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 57.93 لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی پر فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، جن میں 53.92 لاکھ ہیکٹر پر زرعی فصلیں اور 4.01 لاکھ ہیکٹر پر باغبانی کی فصلیں شامل ہیں۔

پرمیشورا نے کہا کہ خشک سالی کے نتیجے میں ریاست کے زرعی شعبے کو تقریباً 62,481.88 کروڑ روپے کا نقصان پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ اس صورتحال نے لاکھوں کسان خاندانوں کو شدید مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔

امدادی رقم کی تفصیلات

ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت سے مجموعی طور پر 20,585.73 کروڑ روپے کی امداد طلب کی ہے، جس میں فصلوں کے نقصانات کے معاوضے کے لیے 6,128.70 کروڑ روپے، چھوٹے اور محدود زمین رکھنے والے کسانوں کی مالی مدد کے لیے 12,146.99 کروڑ روپے، پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے 1,727 کروڑ روپے اور مویشیوں کے تحفظ کے لیے 583.04 کروڑ روپے شامل ہیں۔

پرمیشورا نے بتایا کہ تقریباً 61.91 لاکھ چھوٹے اور محدود زمین رکھنے والے کسانوں کو 60 دنوں کے لیے یومیہ 327 روپے کے حساب سے مالی امداد فراہم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

خشک سالی کے باعث مویشیوں کو درپیش مشکلات کو دور کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے 476 مویشی کیمپ اور 583 چارہ بینک قائم کرنے کے لیے بھی مالی امداد طلب کی ہے۔

اسکولی بچوں اور ضرورت مند طبقات کے لیے اضافی امداد

پرمیشورا نے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسکولی بچوں کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرنے کے لیے پی ایم پوشن اسکیم کے تحت مزید 427.20 کروڑ روپے جاری کرنے کی درخواست کی۔

اس کے علاوہ کمزور اور ضرورت مند طبقات کو غذائی امداد فراہم کرنے کے لیے ضمنی غذائیت پروگرام کے تحت مزید 70.96 کروڑ روپے کی امداد بھی طلب کی گئی ہے۔

تازہ ترین زرعی اعداد و شمار استعمال کرنے پر زور

پرمیشورا نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ خشک سالی سے متعلق امدادی رقم کا تعین کرتے وقت 2015-16 کی پرانی زرعی مردم شماری کے بجائے ریاست کے تازہ ترین فروٹس (FRUITS) ڈیٹا بیس کو بنیاد بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پرانے اعداد و شمار استعمال کرنے کی صورت میں ریاست کو ملنے والی امداد میں تقریباً 1,669.50 کروڑ روپے کی کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے متاثرہ کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔

مرکزی حکومت سے فوری کارروائی کی اپیل

پرمیشورا نے بتایا کہ بین الوزارتی مرکزی ٹیم نے 3 سے 6 اکتوبر کے دوران کرناٹک کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزراء سے اپیل کی کہ متاثرہ کسانوں، زرعی مزدوروں اور دیہی آبادی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے امدادی رقم کی منظوری اور اجرا کے عمل میں تیزی لائی جائے تاکہ ضرورت مند خاندانوں کو بروقت راحت فراہم کی جا سکے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine

الأكثر شهرة

احدث التعليقات