Wednesday, November 4, 2026
الرئيسيةتفریحدھرمیندر: وہ سپر اسٹار جسے ہر کوئی اپنا سمجھتا تھا

دھرمیندر: وہ سپر اسٹار جسے ہر کوئی اپنا سمجھتا تھا

کبھی خوبرو ہیرو اور رومانوی اداکار کے طور پر پہچانے جانے والے دھرمیندر 1980 کی دہائی میں ایکشن ہیرو کے طور پر بھی مشہور ہو گئے۔

سالار نیوز

– کئی ناکامیوں اور مایوسیوں کے بعد انہیں فلم ’دل بھی تیرا، ہم بھی تیرے‘ سے بالآخر کامیابی کا موقع ملا۔

اُتھرا کماری بی

کیا واقعی یہ سچ ہے کہ وہ عظیم فنکار اب ہمارے درمیان نہیں رہے؟ میرے لیے اس خبر کو قبول کرنا آسان نہیں تھا۔

مجھے یاد نہیں کہ میں کب اور کیسے معروف سینئر اداکار دھرمیندر کی اتنی بڑی مداح بن گئی۔ کیا یہ ان کی فلم ’انُپما‘ تھی، یا ’چپکے چپکے‘، ’گڈی‘ یا ان کی کوئی رومانوی فلم؟ لیکن بچپن میں جب بھی کوئی مجھ سے پوچھتا کہ میرا پسندیدہ اداکار کون ہے تو میرا جواب ہمیشہ دھرمیندر ہی ہوتا تھا۔

فلم ’گڈی‘ میں دھرمیندر نے اپنا ہی کردار ادا کیا تھا، جس نے پردے پر اور حقیقی زندگی میں ان کی شخصیت کی عکاسی کی۔ وہ ایک خوش مزاج، دلکش اور شائستہ انسان تھے۔ دھرمیندر کو خوبرو ہیرو، ’گرم دھرم‘ اور ’ہی مین‘ جیسے القابات سے نوازا گیا۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ وہ ہندوستانی سنیما کے درخشاں ستاروں میں سے ایک تھے۔

اپنی خوبصورتی کے بارے میں وہ کہا کرتے تھے کہ لوگوں کی جانب سے ان کی خوبصورتی کے اتنے چرچے سن کر انہیں جھجک محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنی خوبصورتی کا سہرا قدرت، اپنے والدین اور جینز کو دیتے تھے۔

ہر شخص کا اپنا پسندیدہ اداکار ہوتا ہے، لیکن دھرمیندر ہر کسی کے پسندیدہ تھے۔ آخر ان کی کون سی خوبی تھی جس نے انہیں سب کا محبوب بنا دیا؟ کیا وہ ان کا دلکش انداز تھا؟ ان کی خوبصورتی؟ اداکاری کا ہنر؟ یا پردے سے باہر ان کی گرمجوشی اور عاجزی؟ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام خوبیوں کے علاوہ بھی ان میں بہت کچھ تھا۔

وہ بے حد منکسر المزاج تھے۔ مجھے ایک قومی اخبار کے لیے اپنے صحافتی کیریئر کے دو اہم مواقع پر ان کا دو مرتبہ انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔

جب میں نے دوسرے انٹرویو کے لیے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے ایک تاریخ طے کر دی۔ انٹرویو اگلے دن ہونا تھا، لیکن میں دفتر میں کام کر رہی تھی کہ اچانک فون آیا۔ دوسری طرف دھرمیندر جی تھے۔

انہوں نے کہا، ’’اُتھرا عزیز، مجھے افسوس ہے، لیکن کل انٹرویو ممکن نہیں ہوگا کیونکہ میں پنجاب میں ایک فلم کی شوٹنگ کر رہا ہوں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’مجھے معلوم ہے کہ آپ اخبار کے دفتر میں کام کرتی ہیں اور آپ کے اوقاتِ کار بھی غیر معمولی ہوتے ہیں۔ آپ مجھے بتائیں کہ آپ کے لیے کون سا وقت مناسب رہے گا، ہم اسی حساب سے انٹرویو طے کر لیں گے۔‘‘

وہ میری سہولت کا خیال کر رہے تھے!

جب فلمی پردے پر نرم مزاج رومانوی ہیروز اور غصے سے بھرے نوجوانوں کا دور تھا، تب دھرمیندر نے اپنی مردانہ وجاہت، سادگی اور حساسیت کے امتزاج سے لوگوں کے دل جیت لیے۔ یہی وجہ تھی کہ فلم ’گڈی‘ کی کردار گڈی انہیں اپنا آئیڈیل مانتی تھی اور بسنتی بھی ان کے سحر میں گرفتار ہو گئی تھی۔

چاہے وہ فلم میں یہ کہتے کہ ’’موسی، چکی پیس رہی ہو‘‘، یا غصے میں چیختے ہوئے کہتے کہ ’’کتے، کمینے، میں تیرا خون پی جاؤں گا‘‘، یا پھر محبت بھرے انداز میں ’بسنتی‘ پکارتے، انہوں نے ہندوستانی سنیما کو کئی یادگار اور جادوئی لمحات دیے۔

دھرمیندر کیول کرشن دیول 8 دسمبر 1935 کو پنجاب میں پیدا ہوئے۔ جب انہوں نے دلیپ کمار کی فلم ’شہید‘ دیکھی تو وہ کم عمر تھے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ اسی فلم کو دیکھنے کے بعد ان کے دل میں اداکار بننے کی خواہش پیدا ہوئی۔

انہوں نے بتایا:

’’میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ میں بمبئی (موجودہ ممبئی) جانا چاہتا ہوں اور وہاں اپنی قسمت آزمانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کے بڑے شاید اس بات سے اتفاق نہ کریں۔ اس زمانے میں اداکاری کے پیشے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ میں مایوس ہو گیا، لیکن میری والدہ مجھے اداس نہیں دیکھ سکتی تھیں، اس لیے انہوں نے مجھے اپنے خواب کو پورا کرنے کی اجازت دے دی۔‘‘

’’میں نے فلم فیئر ٹیلنٹ مقابلہ جیتا تھا۔ آج میں اطمینان سے کہہ سکتا ہوں کہ خدا مجھ پر مہربان رہا۔ لیکن ابتدا میں میرا سفر بالکل آسان نہیں تھا۔‘‘

کئی ناکامیوں اور مایوسیوں کے بعد انہیں فلم ’دل بھی تیرا، ہم بھی تیرے‘ سے فلمی دنیا میں اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ملا۔

انہوں نے انٹرویو میں کہا تھا:

’’مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی کھلاڑی اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے کے لیے پُرعزم ہو۔ فلم نے اگرچہ زیادہ کامیابی حاصل نہیں کی، لیکن اس کے گانے بہت مقبول ہوئے۔ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید میں گھبرایا ہوا تھا اور قدرے جھجک محسوس کر رہا تھا۔ لیکن کون سا نیا اداکار ایسا نہیں ہوتا؟‘‘

اپنے ابتدائی فلمی دور میں انہوں نے ’آئی ملن کی بیلا‘ میں منفی کردار بھی ادا کیا تھا۔

آہستہ آہستہ انہیں کامیابی ملنے لگی۔ ان کی فلمیں باکس آفس پر خوب کمائی کرنے لگیں اور وہ ایک ایسے اداکار بن گئے جن کی فلموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔

دھرمیندر اور ہیما مالنی کی مشہور جوڑی نے ’شرافت‘، ’راجہ جانی‘، ’شعلے‘ اور ’جگنو‘ جیسی کئی کامیاب فلمیں دیں۔ پردے پر دونوں کی شاندار کیمسٹری اکثر ان کی حقیقی زندگی کی محبت کی بھی عکاسی کرتی تھی۔

کبھی خوبرو ہیرو اور رومانوی اداکار کے طور پر پہچانے جانے والے دھرمیندر 1980 کی دہائی میں ایکشن ہیرو کے طور پر بھی ابھرے۔

ستر کی دہائی کے اواخر میں بھی دھرمیندر کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ انہوں نے اپنی گھریلو پروڈکشن کی فلموں میں بھی کام کیا، جن میں ہیما مالنی کی ’ٹیل می او خدا‘ اور دیول خاندان کی کامیاب فلمی سیریز ’یملا پگلا دیوانہ‘ شامل ہیں۔

ان کی آخری فلموں میں سے ایک ’راکی اور رانی کی پریم کہانی‘ تھی، جس میں انہوں نے ایسی شاندار اداکاری کی کہ ناظرین ان سے محبت کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔

ان کی ایک اور آخری فلم ’اکیس‘ ابھی ریلیز ہونا باقی تھی، جو ایک جنگی ڈرامہ ہے اور ایک بہادر جنگی ہیرو کی زندگی پر مبنی ہے۔

ان کے مضبوط جسم اور خوبصورت شخصیت کے پیچھے ایک نہایت حساس اداکار چھپا ہوا تھا۔ چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے فلمی کیریئر میں انہوں نے مختلف النوع کردار ادا کیے۔ کبھی وہ سادہ دل دیہاتی بنے، کبھی جدید طرزِ زندگی کے شوقین نفیس انسان، کبھی غور و فکر کرنے والے ادیب، کبھی اصول پسند شخصیت، تو کبھی ’شعلے‘ کے محبوب مگر شرارتی شرابی ویرو اور کبھی فلم ’چپکے چپکے‘ کے اناڑی پروفیسر پریمَل ترپاٹھی، جو خالص ہندی بولنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کے باوجود اگر ان کے لیے ’ورسٹائل‘ یعنی ہمہ جہت اداکار کا لفظ زیادہ استعمال نہیں کیا گیا تو اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ کسی نے سنجیدگی سے ان کی اداکاری کی صلاحیتوں کا جائزہ ہی نہیں لیا۔

انہیں 2012 میں پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا، لیکن کئی دیگر بڑے اعزازات اور اعرافات ان کے حصے میں نہیں آئے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا:

’’لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ میرے لیے یہی سب سے بڑا ایوارڈ ہے۔ میں کیمرے کا شکر گزار ہوں، کیونکہ اسی کیمرے نے مجھے لوگوں تک پہنچایا ہے۔‘‘

وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے:

’’مجھے لوگوں کی محبت بہت پسند ہے۔‘‘

اور واقعی، اس سنہری دل والے ہیرو کو ہر طرف سے بے پناہ محبت ملی۔

اتفاق کی بات ہے کہ ان کی پہلی فلم کا نام بھی ’دل بھی تیرا، ہم بھی تیرے‘ تھا!

مصنفہ اُتھرا کماری بی ایک سینئر صحافی ہیں، جنہوں نے ’دی نیو انڈین ایکسپریس‘ اور ’دی ٹائمز آف انڈیا‘ میں اہم عہدوں پر کام کیا۔ صحافت کے شعبے میں چار دہائیوں تک سرگرم رہنے کے بعد اب وہ آزادانہ طور پر صحافتی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine

الأكثر شهرة

احدث التعليقات