Wednesday, November 4, 2026
الرئيسيةعالمی خبریںلولا کے ہاتھوں صدارتی انتخاب میں شکست کے چند روز بعد فلیویو...

لولا کے ہاتھوں صدارتی انتخاب میں شکست کے چند روز بعد فلیویو بولسونارو برازیل چھوڑ کر فرار

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ بولسونارو اور ان کے اہلِ خانہ کا امریکہ میں خیرمقدم کریں گے۔

پی ٹی آئی

– برازیل کے صدارتی انتخاب میں شکست کھانے والے امیدوار فلیویو بولسونارو اپنی اہلیہ اور دو بیٹیوں کے ساتھ برازیل چھوڑ کر ارجنٹینا اور ایکواڈور کے راستے روانہ ہوئے۔ (فیس بک / فلیویو بولسونارو)

ساؤ پاؤلو، 28 اکتوبر:

برازیل کے صدارتی انتخاب میں شکست کھانے والے امیدوار فلیویو بولسونارو اپنی اہلیہ اور دو بیٹیوں کے ہمراہ ملک چھوڑ کر پہلے ارجنٹینا اور پھر ایکواڈور پہنچ گئے۔ ارجنٹینا کے محکمہ امیگریشن نے بدھ کے روز یہ اطلاع دی۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اس سے ایک روز قبل 45 سالہ سینیٹر اور ان کے اہلِ خانہ کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ویزے جاری کیے گئے تھے۔

بولسونارو کو برازیل کی سپریم کورٹ میں دو مقدمات کے سلسلے میں مبینہ بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے الزامات کا سامنا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

عدالت نے بولسونارو کو حکم دیا تھا کہ وہ منگل کی دوپہر 12 بجے تک اپنے عام اور سفارتی پاسپورٹ جمع کرائیں۔ یہ حکم موجودہ صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کے ہاتھوں صدارتی انتخاب میں شکست کے دو روز بعد دیا گیا تھا۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا انہوں نے عدالتی حکم پر عمل کیا یا نہیں، تاہم ان کے حامیوں نے منگل کی رات دعویٰ کیا کہ ان کے پاس اطالوی پاسپورٹ بھی موجود ہے۔

ارجنٹینا کے محکمہ امیگریشن کے مطابق، بولسونارو، ان کی اہلیہ فرنانڈا اینٹونیس فیگویرا بولسونارو اور ان کی دو بیٹیوں کیرولینا فیگویرا بولسونارو اور لوئیزا فیگویرا بولسونارو نے منگل کی رات 10 بج کر 50 منٹ پر ارجنٹینا میں داخلہ لیا۔

انہوں نے ٹانکریڈو نیویس انٹرنیشنل برج کے راستے ملک میں داخلہ لیا، جو برازیل اور ارجنٹینا کے شمال مشرقی صوبے میسیونیس کو ملانے والا ایک اہم سرحدی راستہ ہے۔

ارجنٹینا کے محکمہ امیگریشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ’’ان افراد کے پاس سفر کے لیے درست دستاویزات موجود تھیں اور انہیں ملک میں داخلے کے حوالے سے کسی قانونی رکاوٹ کا سامنا نہیں تھا۔‘‘

محکمہ کے مطابق، مقامی وقت کے مطابق رات 11 بج کر 30 منٹ پر امیگریشن کی کارروائی مکمل کرنے کے کچھ ہی دیر بعد چاروں افراد نے ایوی ایشن کمپنی بائیرس فلائی ایس اے (Baires Fly SA) کے زیرِ انتظام ایک نجی چارٹر طیارے میں سوار ہوئے۔ جمع کرائے گئے فلائٹ پلان کے مطابق، طیارہ ایکواڈور کے شہر گوایاکل کے لیے روانہ ہوا۔

اس پیش رفت سے برازیل کے دوبارہ منتخب صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا اور ان کے ارجنٹائنی ہم منصب خاویر میلی کے درمیان بڑے سفارتی تنازعے کا خدشہ ہے۔ میلی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اتحادی ہیں اور بولسونارو کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے برازیل بھی گئے تھے۔

بولسونارو اور ان کا خاندان میامی جا سکتا ہے

پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 (FlightRadar24) کے مطابق، بولسونارو کے طیارے سے مشابہ ایک جہاز مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 4 بجے گوایاکل پہنچا اور چند منٹ بعد میامی کے اوپا لوکا ایگزیکٹیو ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہو گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا شکست خوردہ امیدوار بھی اس طیارے میں سوار تھے یا نہیں۔

منگل کے روز 81 سال کے ہونے والے صدر لولا دا سلوا نے برازیلیا میں صدارتی رہائش گاہ کے باہر اپنے درجنوں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بولسونارو کے ٹھکانے کے بارے میں درست معلومات نہیں ہیں، تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ بولسونارو برازیل چھوڑ چکے ہیں۔

لولا نے کہا، ’’مجھے افسوس ہے کہ وہ برازیل چھوڑ کر چلے گئے، کیونکہ وہ یہاں رہ کر یہ ثابت کر سکتے تھے کہ ان پر لگائے گئے الزامات درست نہیں ہیں۔ برازیل چھوڑنے کا یہ عمل شرمناک ہے۔‘‘

امریکہ میں مقیم بولسونارو کے قریبی حامی پاؤلو فیگیرئیڈو نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ وہ غیر ملکی حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی تصدیق نہیں کر سکتے، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ’’فلیویو بولسونارو خیریت سے ہیں، محفوظ ہیں اور اپنے خاندان کے ساتھ آرام کر رہے ہیں۔‘‘

فیگیرئیڈو نے یہ بھی بتایا کہ اس معاملے پر جمعرات کے روز میامی میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

برازیل کی حکومت کے نمائندوں نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی جانب سے تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کی صبح کہا کہ وہ بولسونارو کے امریکہ آنے کی حمایت کریں گے اور انہیں اور ان کے خاندان کو ’’اچھے لوگ‘‘ قرار دیا۔

ٹرمپ نے منگل کے روز ٹیکساس میں انتخابی مہم سے واپسی کے بعد میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ انتخاب واقعی عجیب تھا اور میرے خیال میں یہ انتہائی خراب تھا۔‘‘

انہوں نے اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی، تاہم انتخابی نتائج کی توثیق کرنے سے گریز کیا۔

دنیا بھر کے رہنماؤں اور امریکی ریاستوں کی تنظیم (او اے ایس) نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے لولا دا سلوا کو مبارکباد دی تھی۔ لولا نے صدارتی انتخاب کے دوسرے اور آخری مرحلے میں تقریباً 44 لاکھ ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی تھی۔

منگل کے روز ارجنٹینا کی حکومت کے ترجمان ایڈرین راویئر نے کہا، ’’بولسونارو کی جانب سے سیاسی پناہ کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے اور اس معاملے میں مزید کچھ کہنے کو نہیں ہے۔‘‘

برازیل چھوڑنے سے قبل بولسونارو نے اپنے والد سے ملاقات کی، جو گھر میں نظر بند ہیں

شکست خوردہ امیدوار کو پیر کے روز سپریم کورٹ کا حکم موصول ہوا تھا، جس میں انہیں اپنے برازیلی پاسپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی گئی تھی۔

ایک ویڈیو میں انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ عدالتی حکم اپنے والد کی رہائش گاہ کے باہر موصول ہوا۔ ان کے والد اور سابق صدر جائر بولسونارو 2022 کے انتخاب میں لولا دا سلوا سے شکست کے بعد مبینہ طور پر بغاوت کی کوشش کرنے کے جرم میں 27 سال کی سزا کاٹ رہے ہیں اور گھر میں نظر بند ہیں۔

اس انتخابی شکست کے بعد جائر بولسونارو برازیل چھوڑ کر امریکی ریاست فلوریڈا چلے گئے تھے، تاہم تین ماہ بعد واپس آ گئے تھے۔

فلیویو بولسونارو نے پیر کے روز ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ وہ انتخابی نتائج کے خلاف اپنے پارلیمانی ساتھیوں کے درمیان اپوزیشن کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بطور سینیٹر ان کی آٹھ سالہ مدت 31 جنوری 2027 کو ختم ہو رہی ہے، جس کے بعد وہ برازیل کی سپریم کورٹ میں حاصل خصوصی عدالتی دائرہ اختیار سے بھی محروم ہو جائیں گے۔

برازیل کی سپریم کورٹ بولسونارو کے خلاف اس الزام کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ انہوں نے ایک اسپورٹس بیٹنگ کمپنی کے ذریعے بزرگ شہریوں کو ادا کیے جانے والے سرکاری پنشن فنڈز سے مبینہ طور پر کی گئی غیر قانونی کٹوتیوں کی رقم کو سفید کیا۔

ایک الگ مقدمے میں ان پر ایک بدنام بینکار سے لاکھوں ڈالر وصول کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine

الأكثر شهرة

احدث التعليقات