Monday, November 2, 2026
الرئيسيةکرناٹکدودھ اور دہی کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی پر بوجھ...

دودھ اور دہی کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی پر بوجھ بڑھ رہا ہے: کرناٹک بی جے پی صدر وجیندر

وجیندر نے کہا کہ ڈیری کسانوں کی مدد کے لیے اضافی اخراجات کا بوجھ صارفین پر ڈالنے کے بجائے ریاستی حکومت کو خود برداشت کرنا چاہیے۔

– بی جے پی رہنما کے مطابق دودھ اور دہی کی قیمتوں میں اضافے سے گھریلو بجٹ متاثر ہوگا، جبکہ ہوٹل ایسوسی ایشنز نے چائے، کافی اور اسنیکس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ (اے این آئی)

بنگلورو، یکم اکتوبر:

ریاستی بی جے پی صدر بی وائی وجیندر نے کہا ہے کہ دودھ اور دہی کی قیمتوں میں بالترتیب 8 روپے اور 12 سے 14 روپے فی لیٹر اضافے کے فیصلے سے عام آدمی پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔

اتوار کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وجیندر نے کہا کہ اپوزیشن ریاستی حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے، جس کے تحت ڈیری کسانوں کو دودھ کی قیمت میں اضافے کے ذریعے فی لیٹر 7 روپے اضافی آمدنی فراہم کرنے کا اقدام کیا گیا ہے۔ یہ نئی قیمتیں یکم نومبر سے نافذ ہو چکی ہیں، تاہم اس کا مالی بوجھ عام عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ٹونڈ ملک کی بعض اقسام کی قیمتوں میں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 8 روپے کے بجائے 12 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

وجیندر نے کہا، ’’اس اضافی بوجھ کو ریاستی حکومت کو خود برداشت کرنا چاہیے۔‘‘

دوسری جانب ہوٹل ایسوسی ایشنز نے خبردار کیا ہے کہ دودھ اور دہی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث چائے، کافی اور اسنیکس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس اضافے کا سب سے زیادہ اثر چھوٹے ہوٹلوں پر پڑنے کا امکان ہے۔

وجیندر نے مزید کہا کہ پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکسوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ اسٹامپ ڈیوٹی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان تمام اقدامات سے عام لوگوں کے اخراجات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine

الأكثر شهرة

احدث التعليقات