آر ایس ایس اور دیگر جماعتوں پر پابندی لگانے پر ابھی بحث نہیں ہوئی پہلے مکمل اور مستحکم حکومت کاقیام ہونا چاہئے۔ وزراء کو قلمدان ملنا چاہئے۔پرمیشور

RushdaInfotech May 26th 2023 urdu-news-paper
آر ایس ایس اور دیگر جماعتوں پر پابندی لگانے پر ابھی بحث نہیں ہوئی پہلے مکمل اور مستحکم حکومت کاقیام ہونا چاہئے۔ وزراء کو قلمدان ملنا چاہئے۔پرمیشور

بنگلورو۔25/مئی(سالارنیوز) سینئر کانگریس لیڈر و ریاستی وزیر ڈاکٹر جی پرمیشور نے آج کہا کہ فرقہ پرست آرگنائزیشن جیسے بجرنگ دل یا آر ایس ایس پر پابندی عائد کرنے سے متعلق نئی حکومت نے ابھی کوئی گفتگو نہیں کی ہے۔پرمیشور کا یہبیان ان کے کابینہ ساتھی پرینک کھرگے کے بیان کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ریاست کے امن وامان میں خلل پیدا کرنے والی مذہبی اور سیاسی جماعتوں، جن میں آر ایس ایس بھی شامل ہے کے خلاف کانگریس حکومت ضروری کارروائی کرے گی۔پرینک کھرگے نے یہ بھی کہا ہے کہ اسکول کے نصابی کتابوں میں جو اسباق ہٹائے گئے ہیں اور جن اسباق کو شامل کیا گیا ہے اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔لیکن پرمیشور کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں کہ کانگریس حکومت ابھی مکمل قائم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے حکومت کو مکمل شکل اختیار کرنے دو اور وزراء کو قلمدان تقسیم ہونے دو۔ اس کے بعد حکومت کو جو اہم اور ضروری فیصلے لینے ہیں وہ ضرور لئے جائیں گے۔پہلے ریاست میں ایک مستحکم اور مکمل حکومت کا قیام ہونے دو۔ پرمیشور نے بتایا کہ متعلقہ وزیر پہلے معاملات کا جائزہ لیں گے، اس کے بعد معاملات کو کابینہ میں رکھا جائے گا اور کابینہ فیصلہ کرے گی کہ کیا کرنا ہے۔ پرمیشور نے یہ بھی کہا ہے کہ کھرگے نے جو بیانات دئے ہیں وہ ان کی ذاتی رائے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی معاملہ پر انفرادی بیانات کی بنیاد پرفیصلہ نہیں ہوتے۔ معاملات پر پہلے بحث ہونی چاہئے اس کے بعد پالیسی کی بنیاد پر فیصلے ہوں گے۔
آر ایس ایس کے خلاف کارروائی؟ فرقہ پرست تنظیم آر ایس ایس کے خلاف کارروائی کرنے کھرگے کے مخصوص بیان پر پرمیشور نے کہا کہ اس معاملے پر کچھ بھی بحث نہیں ہوئی ہے۔ہم نے ہمارے انتخابی منشور میں صرف اتنا کہا ہے کہ فرقہ پرست تنظیمیں جیسے بجرنگ دل اور پی ایف آئی کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں اگر ضرورت پڑے تو پابندیاں لگانا بھی شامل ہے،اگر وہ امن وامان میں خلل پیدا کریں،انہوں نے بتایا کہ سوائے اس کے کچھ بھی بحث نہیں ہوئی ہے۔پرمیسور نے مزید کہا کہ کوئی بھی سماج مخالف اور عوام مخالف قانون یا رول جو امن میں خلل پیدا کرتا ہو، اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا،ہم نے سیاست میں عوام دوست انتظامیہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے لئے جو ضروری ہے ہم کریں گے۔ جس میں چند عوام مخالف قوانین بھی شامل ہیں جن کو واپس لے لیا جائے گا۔ پرمیشور نے بتایا کہ نئی کانگریس حکومت پانچ گیارنٹیوں کو نافذ کرنے کی پابند ہے۔ ان گیارنٹیوں کو جلد از جلد نافذ کریں گے۔ پہلے کابینہ اجلاس میں فیصلہ کے بعد احکامات جاری کئے گئے ہیں۔اب اس پر متعلقہ محکمے ان گیارنٹیوں کو نافذ کرنے کے طریقہ کار اور فنڈ سے متعلق کارروائی کررہے ہیں۔ہم نے متعلقہ افسروں سے کہا ہے کہ ان گیارنٹیوں کو نافذ کرنے کے تمام تفصیلات اگلی کابینہ میں لائیں۔کانگریس حکومت پر تنقید کرنے والی دو اپوزیشن پارٹیاں بی جے پی اور جے ڈی ایس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پرمیشور نے کہا کہ دونوں پارٹیاں کانگریس کی اتنی بڑی کامیابی سے جل رہی ہیں۔ کانگریس نے جو گیارنٹیاں دی ہیں اس سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم ان گیارنٹیوں کو ضرور نافذ کریں گے۔


Recent Post

Popular Links