شکاری پور: جشن ادب اطفال کی تیاریاں،مہمان اسکالرس کا میڈیا سے خطاب

RushdaInfotech January 25th 2023 urdu-news-paper
شکاری پور: جشن ادب اطفال کی تیاریاں،مہمان اسکالرس کا میڈیا سے خطاب

شکاری پور:24جنوری(راست) شکاری پور میں سہ روزہ جشن ادب اطفال، ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کی سوویں کتاب ”باغ اطفال“ کی اجرائی تقریب، قومی سیمینار اور بچوں کے ثقافتی پروگرام میں شرکت کی غرض سے پروفیسر حضرات اور اسکالرس کی آمد شروع ہوچکی ہے۔ اس موقع پرپروفیسر ارتضیٰ کریم، سابق ڈائریکٹر قومی کونسل برائے فراغ اردو زبان دہلی، ڈین فیکلٹی آف آرٹس دہلی یونیورسیٹی دہلی، پروفیسر دبیر احمد چیرمین مولانا آزاد کالج کولکاتا، پروفیسر مشتاق عالم قادری شعبہ اردو دہلی یونیورسیٹی دہلی، ڈاکٹر مشتاق حیدر کشمیر یونیورسیٹی کشمیر، ڈاکٹر سالک جمیل براڑ دیش بھکت یونیورسیٹی پنجاب،تمام نے اپنی بے پناہ مسرت کا اظہار کیا۔پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ واقعی یہ مسرت کا موقع ہے جو میں سہ روزہ جشن ادب اطفال میں شرکت کرکے اپنے تئیں ادب اطفال سے محبت کا اظہار کررہا ہوں۔ ہماری آمد اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے اپنی کتابوں کی بدولت کتنی شہرت اور مقبولیت حاصل کی اور یہ کہ آج جب وہ اپنی سوویں کتاب ادبی دنیا کو دینے جارہے ہیں تو ان کے چاہنے والوں کا عالم کیا ہے۔ پروفیسر دبیر احمد نے کہا کہ حافظ کرناٹکی کی خدمات اور تصنیفات و تخلیقات کی وجہ سے شکاری پور آج ریاست کرناٹک کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ ان کی خدمات سے پوری اردو دنیا واقف ہے۔ ہم ان کی خدمات کے اعتراف اور ادب اطفال کی محبت میں یہاں اکٹھا ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر سالک جمیل براڑ نے کہا کہ پنجاب میں غالباً اس تندہی سے ادب اطفال پر کام نہیں ہورہا ہے۔ ایک اکیلے انسان نے جس طرح ادب اطفال کو ادب کے مرکزی دھارے کا حصہ بنادیا ہے اس کی مثال تلاش کرنی مشکل ہے۔ پروفیسر مشتاق عالم قادری نے کہا کہ میں حافظ کرناٹکی کی خدمات کا بہت معترف ہوں۔ ادب اطفال کیلئے انہوں نے جو کام کیا ہے وہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی خدمات سے ہی متأثر ہو کر میں نے دہلی یونیوسیٹی میں کئی بچوں کو ادب اطفال کو اپنے ریسرچ کا موضوع بنانے کا مشورہ دیا ہے۔ ڈاکٹر غلام نبی کمار نے کہا کہ مجھے یہاں آکر اور یہاں کے کاموں اور حافظ صاحب کے کارناموں کو دیکھ کر بہت حیرت ہوئی۔ انہوں نے صحرا میں جس طرح ادب اطفال کا باغ سجایا ہے وہ قابل فخر اور لائق ستائش ہے۔ کشمیر میں اردو سرکاری زبان ہے۔ مگر پوری ریاست کے بچوں کے ادیب مل کر بھی حافظ کرناٹکی جتنا سرمایہ فراہم نہیں کرسکتے ہیں۔


Recent Post

Popular Links