وزیر اعظم سے حج فارم 2023جلد از جلد جاری کرانے کا مطالبہ

RushdaInfotech January 25th 2023 urdu-news-paper
وزیر اعظم سے حج فارم 2023جلد از جلد جاری کرانے کا مطالبہ

نئی دہلی:24 جنوری (یو این آئی) ملک کے عازمین حج کو سہولت دلانے کے لیے کوشاں حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر حافظ نوشاد احمد اعظمی نے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے عازمین حج کو پریشانیوں سے بچانے کیلئے حج 2023 کا فارم بلاتاخیر ایشو کرانے کیلئے وزارت حج کو جلدہدایات جاری کریں۔مسٹر اعظمی نے وزیر اعظم کو اس سلسلے میں آج ایک خط بذریعہ ای میل بھیجا ہے جس کی کاپی ایس جے شنکر وزیر خارجہ اور محترمہ اسمرتی ایرانی جن کے پاس وزارت حج کا محکمہ بھی ہے بھیجا ہے اوراس کی کاپی پریس کو جاری کرتے ہوئے انھوں نے الزام لگایا کہ جولائی 2022 میں وزارت حج کا چارج وزیر موصوفہ کے پاس آگیا تھا اور اس وقت سے عملی طور سے انھوں نے ملک کے عازمین حج کو پریشانیوں سے بچانے کیلئے اور اچھا انتظام کرنے کیلئے کوئی سنجیدگی نہیں دکھا ئی اور آج حالات یہ ہیں کہ پورے ملک کے مسلمان سخت پریشانیوں میں مبتلا ہیں اور اگر جائیں گے تو کتنی پریشانیوں کا سامنا ہوگا۔مسٹر اعظمی نے خط میں لکھا ہے کہ حج 2019 کا فارم17 /اکتوبر 2018 میں ایشو ہوگیا تھا اور 2020 کا حج فارم 10 /اکتوبر 2019 کو اور 2022 کا حج فارم یکم نومبر 2021 کو ویب سائٹ پر ڈال دیاگیا تھا جبکہ حج 2023 کا فارم آج 23 جنوری ہے اسے نومبر کے پہلے ہفتہ یا زیادہ سے زیادہ دوسرے ہفتہ میں حج کمیٹی آف انڈیا کو وزارت کو بھیج دینا چاہیے تھا لیکن آج تک ایشو نہیں ہوسکا ہے اس میں کیا پریشانیاں ہوں گی عازمین حج مکان کس کیٹیگری کا لیں گے وہ تعداد پتہ چل جاتی ہے تو اسی لحاظ سے حج کمیٹی اور کاؤنسلیٹ مل کر مکہ اور مدینہ میں رہائش کا انتظام کرتے ہیں اور فارم ہی کے ذریعہ یہ پتہ چلتاہے کہ کس امبارگیشن پوائنٹ سے کتنے حاجی جائیں گے اس لحاظ سے وزارت شہری ہوابازی سب سے مل جل کر کے وہ سفر کا نظم کرتے ہیں اس کے علاوہ حاجیوں کو ٹریننگ وغیرہ دی جاتی ہے اور بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو وہاں حاجیوں کیلئے ضروری ہوتی ہیں یہ سب کچھ ابھی باقی ہے۔خط میں انھوں نے لکھاہے کہ حج ایکٹ 2002 ء اور برسہابرس کی قدیمی روایت جن کو قانونی درجہ حاصل ہوجاتا ہے اس کی صریح خلاف ورزی وزارت کے ذریعہ ہوتی چلی آرہی ہے جوکسی بھی طرح مناسب نہیں ہے واضح رہے کہ حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعہ جو حج ہورہاہے اس کا ایک ایک پیسہ ملک کے عازمین حج دیتے ہیں صرف غیر ممالک کا سفر ہونے کے ناطے حکومت کے انتظام کی ہمیں محتاجی ہے۔ مسٹراعظمی نے خط میں لکھا ہے کہ وہ 25 برسوں سے غیر سیاسی طریقہ سے حاجیوں کی خدمت کررہے ہیں اور کسی سیاسی جماعت کے ممبر بھی نہیں ہیں انھوں نے اپنے تجربہ کی بنیاد پر کہاکہ ملک میں بہت سی حکومتیں اور وزیر آئے گئے مگر سفر حج اپنے وقت پر سعودی گائڈ لائن کے مطابق ہوتا رہا، انھوں نے کہا کہ سفر حج جس کا ذکر آئین میں ہے موجودہ وزیر اور وزارت اس سلسلے میں قطعی طور سے سنجیدہ نہیں ہیں اور پورے ملک کے عازمین حج اور مسلمان ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ انھوں نے وزیر اعظم سے اس سلسلے میں فوراً مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بلاتاخیر حج فارم ایشو کرایا جائے اور اس سلسلے میں جنگی پیمانہ پر اچھے انتظامات کرنے کی کوشش کی جائے۔


Recent Post

Popular Links