پاکستان میں دہشت گردوں نے کیا ملٹری سینٹرپر قبضہ، افسروں کو بھی یرغمال بنایا

RushdaInfotech December 20th 2022 urdu-news-paper
پاکستان میں دہشت گردوں نے کیا ملٹری سینٹرپر قبضہ، افسروں کو بھی یرغمال بنایا

اسلام آباد:19دسمبر(ایجنسی)پاکستان کے بنو میں دہشت گردوں نے کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ایک احاطہ پر حملہ کرکے قبضہ کر لیا ہے اور سنٹر میں افسروں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ کمپاؤنڈ کو خالی کرانے اور افسروں کو چھڑانے کیلئے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ایک مہم شروع کی ہے۔خبرلکھنے جانے تک یرغمالیوں کو چھوڑانہیں گیاہے، آپریشن کے سبب سکیورٹی فورس آس پاس کے علاقوں میں ہائی الرٹ پر ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنو میں انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی ہیں اور بنو چھاؤنی سے آنے جانے والی سڑکوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ میرن شاہ روڈ اور جماں خاں روڈ کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دہشت گرد افغانستان کیلئے محفوظ ہوائی راستہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اتوار کو لکی مروت علاقے کے برگائی پولیس تھانہ پر رات بھر ہوئے دہشت گردانہ حملے میں 4 پولیس اہلکار مارے گئے اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ دہشت گردوں نے تھانہ پر دو طرف سے حملہ کر دیا۔ پولیس اور بدمعاشوں کے درمیان زبردست گولی باری ہوئی جس میں 4 پولیس اہلکاروں کی موت ہو گئی اور کئی زخمی ہو گئے۔ مار پیٹ کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔ پولیس نے توڑ پھوڑ کرنے والوں کی تلاش میں علاقے میں تلاشی مہم شروع کر دی ہے۔ہائی پروفائل سیاسی ہستیوں پر خطروں اور حملوں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے خیبر پختونخواں میں تعینات سکیورٹی فورسز کو کچھ ہفتوں پہلے جنوبی ضلعوں میں بھیج دیا گیا تھا۔ دی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پیشاور، جنوبی اضلاع اور مردان علاقہ سمیت کچھ علاقوں میں حملوں میں حالیہ اضافہ کے بعد پولیس پورے علاقے میں ہائی الرٹ پر ہے۔
پولیس کے علاوہ سینئر سیاسی لیڈروں نے دھمکی ملنے کی شکایت کی ہے۔ ان میں سے کچھ کے گھر بھی گرینیڈ حملے کی زد میں آ گئے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے علاقائی ترجمان سمر بلور نے بھی بتایا کہ ان کے علاقائی صدر آئمل ولی خان کو دھمکی بھرا فون آیا تھا، جس میں ان پر حملے کرنے کی بات کہی گئی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ کچھ ماہ میں پورے علاقہ میں دہشت گردانہ حملوں کی تعداد بڑھی ہے۔ سرکاری تعداد کے مطابق اگست کے وسط سے نومبر کے آخری ہفتہ تک کے پی میں کم از کم 118 دہشت گردانہ واقعات درج کیے گئے۔ پورے کے پی میں دہشت گردانہ واقعات میں کم از کم 26 پولیس اہلکار، دیگر لا انفورس منٹ ایجنسیوں کے 12 /اہلکاروں اور 17 شہری مارے گئے۔ اس کے علاوہ ان حملوں میں 18 پولیس اہلکار، 10 شہری اور 37 لا انفورس منٹ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو چوٹیں آئیں۔


Recent Post

Popular Links