مایوسی نہیں مثبت سوچ کے ساتھ نوجوانوں کو ملک کی تعمیر کا حصہ بننا چاہئے شہر میں سالڈاریٹی یوتھ کانفرنس میں ڈاکٹر طٰہٰ متین، ڈاکٹر سعد بیلگامی ودیگر کا خطاب

RushdaInfotech December 19th 2022 urdu-news-paper
مایوسی نہیں مثبت سوچ کے ساتھ نوجوانوں کو ملک کی تعمیر کا حصہ بننا چاہئے شہر میں سالڈاریٹی یوتھ کانفرنس میں ڈاکٹر طٰہٰ متین، ڈاکٹر سعد بیلگامی ودیگر کا خطاب

بنگلورو۔18/دسمبر (سالار نیوز)اتوار کے روز شہر میں سالیڈاریٹی یوتھ مومنٹ کی جانب سے عید گاہ قدوس صاحب میں سالیڈریٹی یوتھ کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دور حاضر کے حالات کا سامنا کرنے کے لئے مسلم نوجوانوں کو فعال اور متحرک بنانے معاشرے میں پنپنے والی برائیوں سے ان کو بچانے کی ضرورت ہے۔ اس کانفرنس کا افتتاح جماعت اسلامی ہند کے امیر حلقہ ڈاکٹر محمد سعدبیلگامی، ڈاکٹر طٰہٰ متین، جماعت اسلامی ہند کے سابق امیر اطہر اللہ شریف اور دیگر ممتاز شخصیتوں نے کیا۔ افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر طٰہٰ متین نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو مایوسی کے عالم سے باہر نکلنا چاہئے۔مثبت سوچ کے ساتھ اس فکر کو اپنا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،وہ اس ملک کے ایک ذمہ دار شہری ہیں اور اس حیثیت سے کہاں تک ملک کے تئیں وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر پا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ معاشرتی برائیوں سے ہر طرف سے گھیر لیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان برائیوں کا حصہ بننے کی بجائے ان سے پیچھا چھڑا نے اور ملت کے نوجوانوں کو ملک وملت کا سرمایہ بنانے کے لئے کام کریں۔ معاشرے میں منشیات سے جڑی برائیوں کے خاتمہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے نوجوانوں میں اس بات کا احسا س ہونا ضروری ہے کہ یہ ایک برائی ہے اور اس سے دور رہنا ہے۔ اگر اس کا احسا س ہی نہ ہو تو کوئی مہم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ نوجوانوں میں منشیات کے مضر اثرات اور اس کے نقصانات سے آگاہ کروانے کیلئے ان کے درمیان گھس کر کام کرنا بہت ضروری ہے۔ لوگوں کو اپنے اندر جینے کا مقصد رکھنا چاہئے کہ انہیں اس دنیا اور ملک کے لئے کچھ کرنا ہے ورنہ زندگی بے مقصد ہو گی۔ بے مقصد لوگ اس طرح کی لتو ں کاشکار ہو جاتے ہیں جو سماج میں برائی کا سبب بنتی ہیں۔ زندگی میں بہتر بننے کا جذبہ قوت ایمانی سے آتا ہے۔ سماجی برائیوں کے خلاف یکساں قانون سازی اور اس کے مساوات کے ساتھ نفاذ کی بھی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو اگر روزگار دیا جائے اور ان کو مصروف رکھا جائے تو اس مسئلہ کو کافی حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر سعدبیلگامی نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو جوڑنے اور موجودہ حالات سے واقف کروانے کے ساتھ ساتھ ان میں امید اور حوصلہ جگانے کے مقصد سے اس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ نوجوانوں میں ایک مثبت فکر کو اجاگر کرنے اور حالات حاضرہ کا سامنا کرنے کے لئے حوصلہ بڑھانے کا پیغام اس کانفر نس کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ نوجوانوں کو مایوس او ر مشتعل ہوئے بغیر تعمیری انداز میں امن وسلامتی کا پیغام عام کرنا کانفرنس کا بنیادی مقصد رہا۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں نوجونوں کو حوصلہ اور ہمت کے ساتھ حالات کا مایوس ہوئے بغیر سامنے کرنے کی ترغیب دی گئی۔ نوجوانوں کے مسائل بے روزگاری، منشیات، معاشی طور پر ان کو تقویت دینے اور دیگر امور پر ان کو عملاً متحرک کرنے کے لئے بھی اس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ سلم علاقوں میں بسنے والے نوجوانوں میں معاشرتی برائیوں اور منشیات سے دور رہنے کے لئے پیغام سے متعلق انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے ذریعہ نوجوانوں کو معاشرتی برائیوں بشمول منشیات سے بچنے اور اچھے کاموں سے جڑنے کی ترغیب دی گئی ہے۔کانفرنس کے کنوینرمحمد عقیل نے کہا کہ اس کانفرنس میں 5ہزار سے زیادہ نوجوانوں نے ریاست بھر سے شرکت کی ہے۔ کانفرنس کے اہتمام کی تیاری کے طور پر ریاست بھر میں 100سے زائد یوتھ کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا اور ان کے ذیعہ نوجوانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ ان کو مایوس یا جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے سماج کیلئے کچھ کرنے والے بنیں۔ کانفرنس میں نہاس مالا، صدر، سالیڈاریٹی یوتھ مومنٹ کیرلا نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے ملک کو جو آئین دیا ہے اس میں ملک کے ہر شہری کے سیاسی حقو ق بیان کئے گئے ہیں لیکن جب تک ملک کے ہر شہری کو مساوی سماجی و معاشی حقوق نہیں ملتے ان حقوق سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔محمد کنہی، سکریٹری جماعت اسلامی ہند نے اپنے خطاب میں کہا کہ فرقہ پرستی اس ملک کا ایک بڑا مسئلہ ضرور ہے لیکن اس کا جواب دینے کیلئے مسلم نوجوانوں کو فرقہ پرست بننے کی ضرورت نہیں۔بعض اوقات فرقہ پرستوں کے عمل پر مسلم نوجوانوں کا جذباتی رد عمل مسائل کا سبب بنتا ہے۔ کانفرنس کے دوسرے سیشن میں معروف تاجر محمد بیئر نے نوجوانوں میں ہنر مندی اور تجارت کے ذریعے ملک کی تعمیر میں حصہ لینے کے بارے میں خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج اسلام کو جس طرح الگ الگ خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور اس کی الگ الگ پہنچان بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس کو ملت کے مفاد میں ختم کرکے یکسانیت لانے کی طرف کام ہو نا چاہئے۔ نوجوانوں سے انہوں نے کہا کہ صنعت وتجارت کے شعبہ میں اسلامی تعلیمات کو اپنا کر آگے بڑھیں اور اس ملک کی تعمیر وترقی کا حصہ بنیں۔ سہیل۔ کے کے دہلی نے اپنے خطاب میں اسلاموفوبیا کا جو ماحول ملک میں بنایا جا رہا ہے اس کے بارے میں اپنے خیالات پیش کئے بتایا کہ کس منظم طریقہ سے مسلمانوں کو ہر شعبہ میں حاشیہ پر رکھنے اور مختلف طبقات کے درمیان خلیج کو بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سدباب کرنے کیلئے سوشیل انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ سیاسی انجینئرنگ کے لئے جدوجہد کی ضرورت ہے۔اس کے بعد میڈیا کے رویے پر نفرت کے ایجنڈے سے متعلق پینل مباحثہ کا اہتمام کیا گیا جس میں معروف صحافی ابھے مینن، سہیل کے کے، بی ایم حنیف اور دیگر نے حصہ لیا اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح متعصب میڈیا معاشرے میں چند مخصوص طبقات کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس سے باخبر رہ کر اس کا مقابلہ حکمت عملی اور معلومات سے کرنے کی ضرورت ہے۔


Recent Post

Popular Links