چین کا صنعتی بائیکاٹ کیوں نہیں، کیا مجبوری ہے؟

RushdaInfotech December 19th 2022 urdu-news-paper
 چین کا صنعتی بائیکاٹ کیوں نہیں، کیا مجبوری ہے؟

نئی دہلی-18دسمبر (ایجنسی)اروناچل پردیش کے توانگ میں ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان تصادم کے معاملے پر مرکز کی مودی حکومت ہر طرف سے تنقید کی زد میں آگئی ہے- اپوزیشن اس معاملہ پر مودی حکومت سے مسلسل سوالات کر رہی ہے- دریں اثنا، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے اس معاملے پر مرکزی حکومت سے تند و تیز سوالات کیے ہیں - سی ایم کجریوال نے کہا کہ پچھلے کچھ سالوں سے چین ہمیں آنکھیں دکھا رہا ہے، اور وہ چھوٹے بڑے حملے کر رہا ہے- سرحد پر ہمارے جوان چینی فوجیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں -سی ایم کجریوال نے کہا کہ اس سب کے باوجود سنا ہے کہ چین کئی کلومیٹر اندر گھس گیا ہے، مرکزی حکومت کہتی ہے کہ سب ٹھیک ہے- لیکن میڈیا میں ایسی خبریں آرہی ہیں کہ حکومت درست معلومات نہیں دے رہی ہے- کجریوال نے کہا کہ بی جے پی حکومت کو کیا ہوگیا ہے کہ چین کو سزا دینے کی بجائے ہم ان سے مزید سامان خرید رہے ہیں؟ کجریوال نے کہا کہ-21 2020 میں ہم نے 65 بلین ڈالر کا چینی سامان خریدا یعنی ہندوستان نے چین سے 5.25 لاکھ کروڑ روپے کا سامان خریدا-سی ایم کجریوال نے مزید کہا کہ جب چین نے زیادہ آنکھیں دکھائیں تو اگلے سال بی جے پی حکومت نے 96 بلین ڈالر یعنی 7.5 لاکھ کروڑ روپے کا سامان خریدا- ہمیں انہیں سزا دینی چاہیے تھی، ان سے مزید سامان خریدنے کی کیا مجبوری ہے- ایک طرف ہمارے فوجی سرحد پر جانیں دے رہے ہیں دوسری طرف حکومت چین کو انعام دے رہی ہے-چین سے مزید سامان کیوں خریدا جار ہا ہے؟سی ایم کجریوال نے کہا کہ حکومت کونسا سامان خرید رہی ہے؟ چپل کپڑے کے کھلونے؟ کیا ہم یہ چیزیں نہیں بنا سکتے؟ کجریوال نے کہا کہ اگر ہمارے ملک میں دوگنی قیمت پر بھی مطلوبہ چیزیں بنتی ہیں تو ہم دگنی قیمت پر خریدیں گے، لیکن چین سے سامان خریدنا بند کر دیں -


Recent Post

Popular Links