تاریخی ادوار کو ادب کے سانچے میں ڈھال کر پیش کرنا چاہئے بچوں کے امیر خسرو کے اجراء میں علماء عمائدین اور عوام کی بڑی تعداد میں شرکت

RushdaInfotech December 18th 2022 urdu-news-paper
تاریخی ادوار کو ادب کے سانچے میں ڈھال کر پیش کرنا چاہئے بچوں کے امیر خسرو کے اجراء میں علماء عمائدین اور عوام کی بڑی تعداد میں شرکت

شکاری پور۔17دسمبر (راست) گلشن ِزبیدہ، شکاری پور میں ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی صدارت میں بچہ، بچوں کا ادب اور تاریخ و جغرافیہ کی اہمیت پر ایک جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ جلسے میں مہمان خصوصی مولانا ڈاکٹر محمد فاروق اعظم حبان رحیمی قاسمی رہے۔ مولانا مفتی محمد اظہر الدّین اظہر ندوی، ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی، انیس الرّحمن، نائب سرپرست گلشن زبیدہ، فیاض احمد صدر، ایچ کے فاؤنڈیشن، انجنیئر محمد شعیب، نذراللہ مڈی، عبدالعزیز، میر معلم زبیدہ ہائیر پرائمری اسکول،رضوان باشا، مولانا عبدالحفیظ ندوی،مولانا عبد الرقیب ندوی مفتی محمد شاہد قاسمی، مولانا عرفان قاسمی، مولانا ایوب قاسمی، اشفاق فاتح، قاری محمد سہیل، حافظ عارف مدنی، حافظ ریحان مدنی،مولانا عطاء اللہ ندوی، ابوطلحہ، اور شیخ مدثر وغیرہ کے علاوہ بہت سارے اسکول و مدرسے کے اساتذہ اور طلبا نے شرکت کی۔اس موقع پر محمدفاروق اعظم حبان رحیمی نے کہا کہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی اور ان کی قائم کردہ اکیڈمی کرناٹکا اردو چلڈرنس اکادمی اور ان کا تعلیمی گلشن گلشن زبیدہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی ذہنی و فکری بلندی اور ادبی بلند پروازی، اور ہمہ جہت مطالعے کے ذوق کی پرواز کا بہت اچھا اہتمام و انتظام کررہا ہے۔ انہوں نے نظم و نثر کے ذریعے بچوں میں ماحول، تاریخ، جغرافیہ، حساب، شہریت، سائنس سبھی مضامین کو پیش کیا ہے، اس لئے ان کی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے لئے تاریخ اور جغرافیہ کا علم اور اس کا گہرا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔ حافظؔ کرناٹکی کی نئی کتاب ”بچوں کے امیر خسرو“ کا اجراء کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب جہاں اردو کے آغاز وابتداء کی کہانی سناتی ہے،وہیں اردو ادب اور ہندوستان کی تاریخ کی داستان بھی بیان کرتی ہے۔ مولانا مفتی محمد اظہر الدّین اظہر ندوی نے کہاکہ مدینۃ العلوم شکاری پور میرا مادرعلمی ہے۔ یہاں سے نکل کر میں نے جامعہ اسلامیہ بھٹکل ہوتے ہوئے ندوۃ العلما تک کی تعلیم حاصل کی۔ میں بچپن سے ہی ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو بچوں کے روشن تعلیمی فکر کی ان کی تڑپ کو دیکھ رہاہوں۔ وہ دینی اور عصری تعلیم و تعلّم کے بہترین سنگم ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ طلبا جو بھی علم حاصل کریں اس میں مضبوطی ہو اردو پڑھے تو زبان پرگرفت حاصل ہوجائے۔ سائنس، جغرافیہ،تاریخ،یادینیاتپڑھے تو اس پردسترس حاصل ہو جائے۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ آج جس موضوع کو یہاں مرکز میں رکھ کر گفتگو کی گئی ہے وہ نہایت خوش آئند بات ہے۔ یہ شروعات ہے، میری پوری کوشش ہوگی کہ یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلاجائے۔ طلبا کے درمیان کیمپ لگائے جائیں، انہیں تاریخ اور جغرافیہ کی اہمیت کا احساس دلایا جائے۔ انہیں بتایا جائے اعلیٰ تعلیم کی منزل ان مضامین کے بغیر سرنہیں کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادب اطفال کو بھی محض مخصوص دائرے میں قید نہیں ہوناچاہئے۔ اسے تاریخی واقعات، تاریخی شخصیات، تاریخی عمارات، تاریخ ادوار کو ادب کے سانچے میں ڈھال کر پیش کرنا چاہئے۔ ماحول، شہریت، براعظم، بحراعظم، زمین کی ساخت وغیرہ کے حوالے سے نظمیں، کہانیاں، اور مضامین پیش کرنے کی طرف فنکاروں کو راغب کرنا چاہئے۔ طلبا کو جاننا چاہئے کہ تاریخ اہم واقعات و شخصیات کی ڈائری ہے تو جغرافیہ ہماری دھرتی کاشناخت نامہ ہے۔ اس لئے ان مضامین سے کبھی غفلت نہیں برتنی چاہئے اور ادب اطفال کے قلم کاروں کو بھی اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔انہوں نے اپنی کتاب’بچوں کے امیر خسرو‘ کو بھی تاریخ و تہذیب اور سوانح کے تسلسل کی کڑی بتایا ہے۔


Recent Post

Popular Links