جامع مسجد دہلی میں تنہا لڑکی کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ واپس لیفٹننٹ گورنر کی مداخلت کے بعد معاملہ سلجھا،مسجد کا تقدس برقرار رکھنے کی شرط پر داخلے کی اجازت

RushdaInfotech November 25th 2022 urdu-news-paper
جامع مسجد دہلی میں تنہا لڑکی کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ واپس لیفٹننٹ گورنر کی مداخلت کے بعد معاملہ سلجھا،مسجد کا تقدس برقرار رکھنے کی شرط پر داخلے کی اجازت

نئی دہلی: 24نومبر (ایجنسی)دہلی کی تاریخی شاہجہان مسجد میں تنہا لڑکیوں کے داخلے کے تعلق سے پابندی کے فیصلہ کو لیفٹننٹ گورنر دہلی کی مداخلت کے بعد چند شرائط کے ساتھ واپس لے لیاگیا ہے۔ جامع مسجد میں تنہا خاتون کے داخلے کے پر پابندی معاملہ میں لیفٹننٹ گورنر ونئے کمار سکسینا نے مداخلت کی جس کے بعد جامع مسجد انتظامیہ نے اس فیصلے کو واپس لے لیا اور کچھ شرائط کے ساتھ تنہا خاتون کو مسجد میں داخلے کی اجازت دے دی۔ قبل ازیں جامع مسجد انتظامیہ کی جانب سے حکم نامہ جاری کیا گیا تھا اور مسجد کے گیٹ کے باہر بورڈ لگا یا گیا تھا جس میں لکھا گیاتھا کہ لڑکیوں کا اکیلے مسجد میں داخلہ ممنوع ہے۔ یہ تختیاں تینوں دروازوں پر ہیں۔بتایا جا رہا ہے کہ یہ اقدام اس لئے کیا گیا ہے کیونکہ یہاں لڑکیاں آتی ہیں اور میوزک ویڈیو بناکر سوشیل میڈیا پر پوسٹ کرتی ہیں۔دوسری جانب جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے واضح کیا تھا کہ نماز پڑھنے آنے والی خواتین کو نہیں روکا جائے گا، ان کی الگ سے جگہ مخصوص کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی شکایات ملی ہیں کہ لڑکیاں اپنے بوائے فرینڈز کے ساتھ مسجد آتی ہیں۔ اسی لیے ایسی لڑکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ شاہی امام نے کہا کہ اگر کوئی خاتون جامع مسجد آنا چاہتی ہے تو اسے اپنے خاندان، شوہریا دیگر محرم لوگوں کے ساتھ آنا ہوگا۔ اگر وہ نماز پڑھنے آئے تو اسے نہیں روکا جائے گا۔ پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ اگر مسجد میں لڑکیوں کو نماز کیلئے روکا جاتا تو غلط ہوتا، لیکن اگر کسی اور سرگرمی کیلئے روکا گیا ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ مسجد سیر و تفریح کی جگہ نہیں ہے۔ اگر کوئی مسجد کا تقدس پامال کرتا ہے تو اس کو روکنا غلط نہیں ہے،کسی ناخوشگوار واقعہ سے بہتر احتیاط ہے۔ جامع مسجد کے امام، امام بخاری کا موقف ہے کہ یہ عبادت گاہ ہے، یہاں کسی کو اس کی حرمت پامال کرنے کی قطعی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ آپ کسی گرودوارے، مندر، چرچ اور دیگر مذہبی عبادت گاہ پر ایسی غیر اخلاقی حرکتیں نہیں کرسکتے، اس لیے ان تمام چیزوں کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے ایسی پابندیاں لگائی ہیں۔


Recent Post

Popular Links