کثرت ازواج اور نکاح حلالہ پر پابندی کا مطالبہ سپریم کورٹ بنائے گا نئی آئینی بینچ

RushdaInfotech November 25th 2022 urdu-news-paper
کثرت ازواج اور نکاح حلالہ پر پابندی کا مطالبہ  سپریم کورٹ بنائے گا نئی آئینی بینچ

نئی دہلی:24نومبر(ایجنسی) سپریم کورٹ نے مسلمانوں میں رائج کثرت ازواج اور نکاح حلالہ کے کیسوں پر غور کرنے کیلئے آئینی بنچ تشکیل دینے پر رضامندی دے دی ہے۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی صدارت والی بنچ نے آج کہا کہ وہ ان روایتوں کو چیلنج دینے والی درخواست پر غور کرنے کیلئے نئی آئینی بنچ بنائے گی۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ نئی بنچ ان معاملوں کی سماعت کرے گی۔ یہ حکم سینئر وکیل اشونی اپادھیائے کی درخواست پر دیا گیا ہے۔ اپادھیائے نے درخواست کا آج صبح چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے ذکر کیا تھا۔ درخواست میں مسلمانوں کی کثرت ازواج اور حلالہ روایت کو ممنوع قرار دینے کی مانگ کی گئی ہے۔اپادھیائے نے بنچ سے کہا کہ دو ججوں جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس ہیمنت گپتا سبکدوش ہوچکے ہیں اور نئی بنچ بنائی جانی ہے۔ اس سے پہلے پانچ ججوں، جسٹس اندرا بنرجی، ہیمنت گپتا، سوریہ کانت، ایم ایم سندریش اور سدھانشو دھولیہ کی بنچ اس معاملے کی سماعت کررہی تھی۔ درخواست میں مانگ کی گئی ہے کہ مسلمانوں میں رائج کثرت ازواج (ایک سے زائد شادیوں)کی روایت اور نکاح حلالہ پر پابندی لگائی جائے۔ یہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ نکاح حلالہ کا رواج ایک طلاق شدہ خاتون کو پہلے کسی اور سے شادی کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد مسلم پرسنل لا کے تحت اپنے پہلے شوہر سے پھر شادی کرنے کیلئے طلاق لینا پڑتا ہے۔ دوسری جانب، کثرت ازواج ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ بیویوں یا شوہر ہونے کی روایت ہے۔بتادیں کہ، اس سے پہلے عدالت تین طلاق کی روایت کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ اس کے بعد مرکزی حکومت نے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایسا کرنے پر سخت سزا کا پروویژن لگایا ہے۔


Recent Post

Popular Links