الیکشن کمشنر کی تقرری برق رفتاری سے کیوں کی گئی؟ سپریم کورٹ کا مرکزی حکومت سے سوال،فیصلہ محفوظ

RushdaInfotech November 25th 2022 urdu-news-paper
 الیکشن کمشنر کی تقرری برق رفتاری سے کیوں کی گئی؟ سپریم کورٹ کا مرکزی حکومت سے سوال،فیصلہ محفوظ

نئی دہلی:24نومبر(ایجنسی)سپریم کورٹ کی 5/ججوں کی آئینی بنچ نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) اور الیکشن کمشنر (ای سی)کی تقرری کے لئے ایک آزاد سلیکشن پینل تشکیل دینے کے مطالبے سے متعلق درخواستوں پر جمعرات کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ مرکز کی جانب سے سی ای سی اور ای سی تقرری کے متعلق فائل پیش کئے جانے کے بعد جمعرات کو ارون گوئل کی الیکشن کمشنر کے طور پر تقرری کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کی نمائندگی کر رہے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی سے سپریم کورٹ نے سوال کیا کہ یہ اتنی جلدبازی میں کیوں کی گئی؟ جسٹس کے ایم جوزف کی سربراہی والی 5 ججوں کی آئینی بنچ نے گوئل کی تقرری پر فائل کی جانچ کے بعد محکمہ عملہ اور تربیت (ڈی او پی ٹی)ڈیٹا بیس سے چار ناموں کو شارٹ لسٹ کرنے میں وزیر قانون کی جانب سے اختیار کئے گئے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا۔بنچ کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو تقرری پر مِنی ٹرائل نہیں کرنا چاہیے، تاہم بنچ نے ان سے یہ بتانے کیلئے کہا کہ اتنی برق رفتاری سے تقرری کرنے کی وجہ کیا تھی۔ بنچ نے پوچھاکہ اسی دن عمل شروع ہوا، اسی دن کلیئرنس ہوئی اور اسی دن تقرری کر دی گئی؟ جسٹس جوزف نے خاص طور پر ڈی او پی ٹی کے ڈیٹا بیس سے چار ناموں کے انتخاب میں وزیر قانون کے اختیار کردہ معیار پر سوال اٹھایا۔بنچ نے کہا کہ 18 نومبر کو وزیر نے ناموں کا انتخاب کیا اور فائل بھی اسی دن پیش کی گئی، حتیٰ کہ وزیراعظم نے بھی اسی دن ناموں کی سفارش کی۔ ہم کوئی تصادم نہیں چاہتے۔ عدالت نے کہا کہ یہ عہدہ 15 مئی سے خالی تھا، اور اب اسے برق رفتاری کے ساتھ پر کر دیا گیا۔ جسٹس جوزف نے کہا کہ عدالت کو 'یس مین(جی حضوری کرنے والے)کی تقرری پر تشویش ہے اور پوچھا کہ وزیر قانون کی عمر کے معیار کی بنیاد پر سینکڑوں لوگوں کے ڈیٹا سے چار ناموں کو شارٹ لسٹ کرنے کی کیا بنیاد ہے؟گوئل کی تقرری کے سپر فاسٹ طریقے پر سوال اٹھاتے ہوئے بنچ نے کہا کہ یہ عمل 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل ہو گیا اور اس کیلئے نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ الیکشن کمشنروں اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی)کی تقرری کیلئے کالجیم جیسا نظام قائم کرنے کی درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے بدھ کو مرکز سے کہا کہ وہ گوئل کی حالیہ تقرری سے متعلق فائلوں کو دیکھنا چاہتا ہے۔


Recent Post

Popular Links