میوا مرکز میں ادارہ ادبیات اردو کورس کے اسناد کی تقسیم ”عالم کا درجہ ستاروں کے درمیان چاند کی مانند ہے“

RushdaInfotech November 24th 2022 urdu-news-paper
میوا مرکز میں ادارہ ادبیات اردو کورس کے اسناد کی تقسیم ”عالم کا درجہ ستاروں کے درمیان چاند کی مانند ہے“

میسور: 22 نومبر(راست) معروف افسانہ نویس پروفیسر شاہدہ شاہین نے میوا مرکز، شانتی نگر،کی اردو طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک عالم اور ایک جاہل یکساں نہیں ہوسکتے۔ مسلمان تعلیمی فقدان اور نوجوانوں میں تہذیب سے دوری کی وجہ سب سے پیچھے رہ گئے ہیں۔دوسروں کے مقابلے ہم میں علم کی اور اپنی مادری زبان کی اہمیت گھٹ چکی ہے۔ بطور مہمان خصوصی آپ نے تعلیم کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جتنے بھی قومی معمار ہیں ان کی ترقی میں ان کی ماؤں کا رول بہت اہم رہا ہے، ایک ماں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر زیادہ زور دے گی تووہ خود اچھے کردار کے مالک اور سماج کے اچھے رکن بن سکتے ہیں۔آپس کے اختلافات مٹا کر ہم کو چاہئے کہ ہم اچھے تعلقات قائم کر یں۔ہم ہمارے شاندار ماضی کو بھول بیٹھے ہیں۔ ہماری زبان ہماری تہذیب کی علامت ہے، آ ج اردو سے ایک طرف سوتیلا سلوک ہورہا ہے تو دوسری طرف ہم خود اس زبان سے دوری اختیار کر چکے ہیں۔ آخر میں انہوں نے طالبات کو اردو سیکھنے اور پڑھنے کا سلسلہ جاری رکھنے کو کہا۔آغاز طالبہ ندا فاطمہ نے تلاوت سے کیا اور اس کاترجمہ بھی سنایا۔ثانیہ نے نعت سنائی۔ نعمت اللہ خان نے مہمانوں کا استقبال اور تعارف کراتے ہوئے ادارہ ادبیات اردو، حیدرآباد اور روزنامہ سیاست والوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے میسور میں بھی اردو مراکز قائم کرنے میں مدد کی۔طالبہ نور نبیہ نے اردوسیکھنے سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔ حمیرہ خانم نے اقبال اشہر کی نظم 'اردو ہے میرا نام' اور ندا فاطمہ نے اردو اشعار سنائے۔ میوا مرکز کی پرنسپل برکت النساء نے اردو زبان کے اشعار سناتے ہوئے اردو سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صدارتی خطاب میں میر سرفراز الرحمٰن نے کہا کہ آج کا مسلمان ذمہ داریوں سے کوسوں دور بھاگ رہا ہے، احساس کا جذبہ ہم میں ختم ہوتا جارہا ہے۔ آج تہذیب کا جنازہ اٹھ رہا ہے، ہم کو چاہیئے کہ اپنے بچوں کو اچھے اخلاق اور تہذیب سے آشنا کریں، علامہ اقبال کے اشعار کا سہارا لیتے ہوئے انہوں سامعین کو احساس دلایا کہ ہم اپنے فرائض بھول بیٹھے ہیں اور اغیار ترقی کے راستے پر گامزن ہیں۔ آپ نے کہا کہ حضور پاکؐ کی تعریف آسان اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا مشکل ہے، اچھائی میں ایک دوسرے کا تعاون ضروری ہے۔ آج اردو پڑھنا ہمارے لئے عیب بن گیا ہے جبکہ دوسری زبانوں کا سیکھنا باعث فخر سمجھا جارہا ہے۔ مرکز میں اردو زبان کی تعلیم کے انتظام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نعمت اللہ خان کی خدمات کو سراہا۔ آخر میں معتمد میوا شیخ عبدالمناف نے تمام کا شکریہ ادا کیا۔ عظمیٰ سلطانہ معلمہ نے نظامت کی۔


Recent Post

Popular Links