بلگام سرحدی تنازعہ پر 18سال بعد سپریم کورٹ میں سماعت

RushdaInfotech November 24th 2022 urdu-news-paper
بلگام سرحدی تنازعہ پر 18سال بعد سپریم کورٹ میں سماعت

بنگلورو:23 نومبر (یو این آئی) مہاراشٹر حکومت سپریم کورٹ میں یہ دلیل دے سکتی ہے کہ بلگام، بیدر اور بالکی سمیت کرناٹک کی سرحد سے ملحق 865 گاؤں اس کے ہونے چاہئیں۔ مہاراشٹر حکومت نے 1956 کے اسٹیٹ ری ڈسٹری بیوشن ایکٹ کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔اس معاملے میں سال 2004 میں دائر درخواست کی سماعت 18 سال بعد بدھ 23 نومبر کو سپریم کورٹ میں ہوگی۔ ایسے میں سرحدی تنازعہ کی توجہ اب سپریم کورٹ پر مرکوزہے۔کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کہا کہ وکلاء کی ہماری ٹیم کرناٹک کے حق میں فیصلہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ وکلاء کی ٹیم میں سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی، شیام دیوان، ادے ہولا اور ماروتی جرلے شامل ہیں۔اس سلسلے میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شنڈے نے سرحدی تنازعات پر اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی اور سینئر ایڈوکیٹ سی ایس کے ساتھ میٹنگ بھی کی جنہیں عدالت عظمیٰ میں مہاراشٹرا کی جانب سے بحث کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔
میٹنگ میں ویدھ ناتھن سمیت 19 ارکان نے شرکت کی۔دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ ایکناتھ شنڈے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے اور بلگام سرحدی تنازع پر بھی بات کریں گے۔


Recent Post

Popular Links