ووٹروں کو بیدار کر کے ہی ووٹر لسٹوں میں دھاندلیوں کا خاتمہ ممکن مساجد کو مرکز بنا کر ووٹر لسٹوں میں ناموں کے اندراج کا کام مسلسل جاری رکھنا ہو گا: رحمن خان

RushdaInfotech November 24th 2022 urdu-news-paper
ووٹروں کو بیدار کر کے ہی ووٹر لسٹوں میں دھاندلیوں کا خاتمہ ممکن مساجد کو مرکز بنا کر ووٹر لسٹوں میں ناموں کے اندراج کا کام مسلسل جاری رکھنا ہو گا: رحمن خان

بنگلورو:23نومبر(سالار نیوز) شہر بنگلورو کے تمام اسمبلی حلقوں میں ووٹروں کے ڈاٹا کی ایک غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے چوری اور اس واقعہ کے بعد ان خدشات پر کہ منظم طریقہ سے ایک طبقے کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے سابق مرکزی وزیر اور سینئرکانگریس رہنما ڈاکٹر کے رحمن خان نے کہا ہے کہ اس طرح کی کوشش نئی نہیں بلکہ با رہا ووٹر لسٹوں سے سماج کے ان طبقات کے نام ہٹانے کی کوشش ہو تی رہی ہے جو انتہائی غربت زدہ اور پسماندہ ہیں، سلم علاقوں میں بستے ہیں۔ لیکن اس بار پہلی مرتبہ بنگلورو کے ووٹر وں کے انفرادی ڈاٹا کو ایک نجی ادارے نے خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ ’سالار‘ سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہر بار ووٹر لسٹوں پر نظر ثانی کے مرحلہ میں ووٹروں کے ناموں کو فہرستوں سے حذف کر دیا جاتا ہے۔لیکن اس کا پتہ اسی وقت چلتا جب کسی انتخاب میں پولنگ کے دن قطار میں بندھے رہنے کے بعد جب یہ معلوم پڑتا کہ ووٹروں کے نام فہرستوں سے غائب ہیں۔
ووٹروں میں بیداری ضروری: ڈاکٹر رحمن خان نے کہا کہ ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بناکر ناموں کو ووٹر لسٹوں سے نکالنے کی کوشش پر نظر رکھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ عام ووٹروں میں ان کے ووٹ، ووٹر لسٹ میں ان کے نام اور ووٹر شناختی کارڈ کی اہمیت سے آگاہ کروایا جائے۔ اگر ووٹروں کو ان کے ووٹ کی طاقت کا اندازہ ہی نہ ہو تو ووٹر لسٹ میں ان کے نام کے رہنے نہ رہنے سے ان پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مقامی سطح پر کام کرنے والے سماجی کارکنوں کو اس کیلئے متحرک ہو کرفوری ووٹر لسٹوں پر نظر رکھنی چاہئے۔
مساجد کے ذریعے بہتر کام ممکن: انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کیلئے مساجد مرکزی حیثیت کی حامل ہیں اور ان مساجد کے ذریعہ ملت کی سماجی، معاشی اور تعلیمی سرگرمی چلانے کی ضرورت ہے۔ ووٹر لسٹ چونکہ سماجی سرگرمی کا حصہ ہے ہر مسجد کا ایک دائرہ اختیار متعین کر کے اس دائرے میں آنے والے 200تا 300گھروں کا مکمل ڈاٹا مسجد کے پاس ہواور یہ نظررکھی جائے کہ کس کے نام ووٹر لسٹ میں ہیں، کس کے پاس آدھار ہے اور کس کے پاس نہیں۔ محلے سے کون منتقل ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ کون وہاں بسنے آ رہے ہیں۔ اگر مساجد کے ذمہ دارو ں کی طرف سے اس خدمت کو انجام دیا گیا تو کافی حد تک ووٹر لسٹوں کی خامیوں پر نظر رکھی جا سکے گی۔
علماء میں بھی شعور ضروری: انہوں نے کہا کہ مساجد کے ذریعے ووٹر لسٹوں پر نظر رکھنے اور عوام کوووٹر لسٹ میں نام درج کروانے کی ترغیب دینے میں مساجد کا رول کافی اہمیت کا حامل ہو گا۔ مساجد کے ذریعہ ائمہ، علماء و خطیب حضرات کو چاہئے کہ ووٹ کی اہمیت اور ووٹر لسٹوں میں نام شامل کرنے کی ضرورت کے بارے میں خطبات جمعہ کے ذریعہ عوام کو آگاہ کریں۔ ایسا نہیں ہے کہ علمائے کرام میں ووٹ اور موجود ہ حالات کی سنگینی کا شعور نہیں ہے بلکہ بہت ساری مساجد کے ذریعے علمائے کرام ایسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تمام مساجد میں اگر اس طرح کی سرگرمی چلے اور ووٹر لسٹ پر نظر رکھی جائے تو خامیوں کو کافی حد تک دور کیا جا سکتا ہے۔


Recent Post

Popular Links