اقلیتی حیثیت کا تعین ضلعی کیوں؟ گلی کوچوں کی سطح پرکیوں نہیں؟ مختلف ریاستوں میں ہندوؤں کو اقلیت کا درجہ دینے کی عرضی کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کا اظہاربرہمی

RushdaInfotech November 23rd 2022 urdu-news-paper
اقلیتی حیثیت کا تعین ضلعی کیوں؟ گلی کوچوں کی سطح پرکیوں نہیں؟ مختلف ریاستوں میں ہندوؤں کو اقلیت کا درجہ دینے کی عرضی کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کا اظہاربرہمی

نئی دہلی-22 نومبر(ایجنسی) اقلیتوں کی حیثیت کے تعین کے متعلق منگل کے روز سپریم کورٹ نے ایک اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کونسا طبقہ اقلیت میں آتا ہے، یہ تعین وسیع تر بنیادوں پر ہونا چاہئے نہ کہ زرعی سطح پر-اگر ضلع سطح پر ہی یہ طے کرنا ہے کہ کونسا طبقہ اقلیت میں ہے تو کیوں نہ گلی محلے کی سطح پر یہ طے کردیا جائے کہ فلاں طبقہ اقلیت میں ہے اور فلاں طبقہ اکثریت میں،جو کہ عملاً ناممکن ہے-عرضی گزار اشون اپادھیائے نے جب اس معاملے پر جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس ابھئے شری نواس اوکا کو 2007 میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے صادر کئے گئے اس فیصلے پر متوجہ کروایا، جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت اترپردیش گرانٹ ان ایڈ کی فراہمی کے معاملے میں دیگر اداروں کے مقابل مسلم اداروں سے امتیاز نہ برتے، کیونکہ اترپردیش کے 20 اضلاع میں مسلمان اقلیت میں نہیں ہیں - اب ہم 2022 میں ہیں،جہاں اترپردیش کے 26 اضلاع میں مسلمان اکثریت میں ہیں، اس پر جسٹس ایس کے کول نے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟کیا اقلیتوں کی حیثیت کا تعین ضلعی سطح پر کیا جائے؟ اگر ایسا ہی ہے تو کیوں نہ گلی محلے کی سطح پر یہ طے کردیا جائے- عرضی گزار نے دعویٰ کیا کہ ملک کی 10 ریاستوں میں ہندو اقلیت میں ہے -اس لئے عدالت یہ ہدایت دے کہ ان ریاستوں میں ہندوؤں کو اقلیت کا درجہ دیا جائے- عدالت نے ریاستی سطح پر اقلیتوں کی نشاندہی سے متعلق یکساں رہنما خطوط کے تعین کیلئے دائر کی گئی عرضیوں کی سماعت کو یہ کہہ کر ملتوی کردیا کہ اس پر اب تک صرف 14 ریاستوں نے اپنی رائے پیش کی ہے، مزید 19 ریاستوں سے رائے ملنا باقی ہے - وزارت اقلیتی اُمور حکومت ہند کی طرف سے بھی اس ضمن میں ایک اسٹیٹس رپورٹ داخل کی گئی- ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کی درخواست پر عدالت نے اس کیلئے 6 ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے سماعت کو جنوری تک ملتوی کردیا -


Recent Post

Popular Links