ہم آبادی کو نہیں مٹا سکتے آبادی کنٹرول قانون والی عرضی پر سماعت سے سپریم کورٹ نے کیا انکار

RushdaInfotech November 19th 2022 urdu-news-paper
ہم آبادی کو نہیں مٹا سکتے  آبادی کنٹرول قانون والی عرضی پر سماعت سے سپریم کورٹ نے کیا انکار

نئی دہلی-18نومبر(ایجنسی)سپریم کورٹ نے بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے کی اس عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں آبادی کنٹرول قانون کا مطالبہ کیا گیا تھا- عدالت عظمیٰ نے اس عرضی پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ حکومت کے حلقہ اختیار میں ہے- ویسے بھی آبادی میں تو گراوٹ درج کی جا رہی ہے- ساتھ ہی عدالت نے اس سلسلے میں لا ء کمیشن کو بھی کسی طرح کی ہدایت دینے سے صاف طور پر منع کر دیا ہے- سپریم کورٹ کے تبصروں کو دیکھتے ہوئے اشونی اپادھیائے نے عدالت سے اپنی عرضی کو واپس لے لیا-دراصل بی جے پی لیڈر اور مشہور وکیل اشونی اپادھیائے نے دلیل دی تھی کہ آبادی دھماکہ کسی بم دھماکہ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے اور بغیر اثردار آبادی کنٹرول قانون کو نافذ کیے صحت مند ہندوستان، خواندہ ہندوستان، خوشحال ہندوستان، وسائل سے پر ہندوستان اور بدعنوانی و جرائم سے پاک ہندوستان کی مہم کامیاب نہیں ہوگی- انھوں نے یہ دلیل بھی دی تھی کہ ہندوستان کے پاس دنیا کی صرف 2فیصد زمین ہے، جبکہ آبادی 20فیصد ہے- حالانکہ اس عرضی کے جواب میں مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ ہندوستان میں مجموعی فرٹیلٹی ریٹ (ٹی ایف آر)میں لگاتار گراوٹ دیکھی جا رہی ہے-اس عرضی پر سپریم کورٹ میں جمعہ کے روز جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس اے ایس اوک کی بنچ نے سماعت کی- بنچ نے کہا کہ یہ موضوع پوری طرح حکومت کے حلقہ اختیار والا ہے اور یہ بھی کہا کہ آبادی گھٹ رہی ہے- جسٹس کول نے زبانی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آبادی میں گراوٹ آ رہی ہے اور ہو سکتا ہے کہ 10یا 20سالوں میں یہ استحکام کے نکتے تک پہنچ جائے-
ہم آبادی نہیں مٹا سکتے- یہاں تک کہ لا کمیشن کو بھی آخر کس طرح ہدایت دی جا سکتی ہے-اس سے قبل اشونی اپادھیائے کی عرضی کے جواب میں مرکزی حکومت نے واضح کیا تھا کہ آبادی دھماکہ پر کنٹرول کیلئے وہ کسی شادی شدہ جوڑے کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتی کہ اتنے ہی بچے رکھنا ہے- حکومت نے کہا تھا کہ 2001-11کے درمیان ہندوستانیوں میں 100سالوں میں شرح پیدائش میں سب سے زیادہ گراوٹ درج کی گئی تھی- حکومت نے بتایا تھا کہ فیملی کی وسعت میاں -بیوی کو طے کرنا ہے- اپنے حلف نامہ میں مرکزی وزارت برائے صحت و خاندانی فلاح و بہبودنے کہا تھاکہ ہندوستان میں خاندانی منصوبہ بندی پروگرام رویہ کے معاملے میں اختیاری ہے، جس کے تحت میاں -بیوی کسی رخنہ کے کنبہ کا سائز طے کرنے اور خاندانی منصوبہ بندی کے ان طریقوں کو اختیار کرنے میں اہل ہیں، جو ان کیلئے سب سے زیادہ مناسب ہوں، ان کی پسند کے مطابق ہوں -


Recent Post

Popular Links