جبل پور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ:دو بالغ کرسکتے ہیں دوسرے مذہب میں شادی

RushdaInfotech November 19th 2022 urdu-news-paper
جبل پور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ:دو بالغ کرسکتے ہیں دوسرے مذہب میں شادی

جبل پور-18نومبر(ایجنسی) جبل پور ہائی کورٹ نے آج ایک اہم فیصلہ سنایا - کورٹ نے صاف کیا کہ اگر دو بالغ شہری اپنی مرضی سے الگ ذات یا مذہب میں شادی کررہے ہیں تو ان پر کارروائی نہیں کی جاسکتی - جبل پور ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم سناتے ہوئے مدھیہ پردیش مذہبی آزادی ایکٹ 2021کی دفعہ 10کو غیر آئینی قرار دیا ہے - کورٹ نے سرکار کو نوٹس جاری کیا ہے - سرکار کو تین ہفتوں میں جواب داخل کرنے کیلئے کہا گیا ہے -جبل پور ہائی کورٹ نے ریاستی سرکار کو ایسے کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کرنے سے روک دیا ہے جو مذہبی آزادی ایکٹ کی دفعہ 10کی خلاف ورزی کرتا ہے - جبل پور ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم سناتے ہوئے مدھیہ پردیش مذہبی آزادی ایکٹ 2021کی دفعہ 10کو غیر آئینی قرار دیا ہے -
اس دفعہ کے تحت دوسرے مذہب میں شادی کرنے والے کو ضلع مجسٹریٹ یعنی کلکٹر کو شادی کے 60دن پہلے اطلاع دینا لازمی قرار دیا گیا تھا اور ایسا نہیں کرنے پر دو سال تک قید کی سزا کا بندوبست کیا گیا تھا -مدھیہ پردیش مذہبی آزادی ایکٹ 2021کی دفعہ 10کے خلاف جبل پور ہائی کورٹ میں چھ عرضیاں داخل کرکے اس قانون کی ویلڈیٹی کو چیلنج کیا گیا تھا - عرضیوں میں کہا گیا تھا کہ اس قانون کی دفعہ 10آئین سے ملے مذہبی آزادی کے حقوق کے خلاف ہے جو ضلع مجسٹریٹ کو من مانے اختیارات دیتی ہے - سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے عبوری حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بالغ اپنی مرضی سے کسی دوسری ذات یا مذہب میں شادی کرتا ہے تو اس کے خلاف کیس نہیں چلایا جاسکتا-ہائی کورٹ نے اس پورے معاملہ پر مدھیہ پردیش سرکار کو تین ہفتے کے اندر تفصیلی جواب داخل کرنے کہا ہے - عرضی گزاروں کی طرف سے پیروی کرنے والے وکیل کے مطابق یہ ہائی کورٹ کا عبوری فیصلہ ہے -


Recent Post

Popular Links