واہ!امیت شاہ جی واہ،کیا بیان ہے،کاش……اے کاش!! دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت یا گروہ سے منسلک نہیں کیا جانا چاہیے: امت شاہ

RushdaInfotech November 19th 2022 urdu-news-paper
واہ!امیت شاہ جی واہ،کیا بیان ہے،کاش……اے کاش!! دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت یا گروہ سے منسلک نہیں کیا جانا چاہیے: امت شاہ

نئی دہلی-18نومبر(ایجنسی) دہشت گردی کی مالی اعانت کو دہشت گردی سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جمعہ کو بہت ہی خوبصورت اندازمیں کہا کہ اسے کسی مذہب، قومیت یا گروہ سے منسلک نہیں کیا جانا چاہئے-کاش امیت شاہ جی یہ بیان اس وقت دیتے جب کسی ایک کے پکڑے جانے پر پور ی مسلم قوم کو دہشت گردقراردینے کی کوشش ان کی ہی پارٹی کی طرف سے کی جاتی ہے-امیت شاہ کا بیان قابل تعریف اس وقت ہوتا جب وہ ہراس موقع پر جب مسلم نوجوانوں کو زدوکوب کیاجاتاہے،جب اسے دہشت گردقراردینے کے حربے اپنائے جاتے ہیں،اس طرح کے بیانات دیتے کہ دہشت گردوں کاکوئی مذہب نہیں ہوتا-دیرآیددرست آیدکے مصداق اب بھی وقت ہے کہ ملک کے وزیرداخلہ امیت شاہ ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کے تحفظ،ملک کی سا لمیت اور ہندومسلم اتحادواتفاق کے ہرپلیٹ فارم سے ایسے بیانات شروع کردیں -شاہ نے راجدھانی دہلی کے ہوٹل تاج پیلس میں ”دہشت گردی کیلئے پیسہ نہیں“کے موضوع پر انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق تیسری وزارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو تحفظ دینا دہشت گردی کو فروغ دینے کے مترادف ہے اور یہ تمام ممالک کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ایسے عناصر اور ایسے ممالک اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہ ہوں -
وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی، بلاشبہ، عالمی امن اور سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے،دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معصوم جانیں لینے کے عمل کو جائز قرار دینے کی کوئی وجہ قبول نہیں کی جا سکتی- انہوں نے دنیا بھر میں دہشت گردانہ حملوں کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس برائی کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے-

 


Recent Post

Popular Links