ترقی پسند تحریکوں کے خلاف تنقیدیں اور مخالفت عام ہے:سدرشن

RushdaInfotech September 27th 2022 urdu-news-paper
ترقی پسند تحریکوں کے خلاف تنقیدیں اور مخالفت عام ہے:سدرشن

کولار:26ستمبر(سالارنیوز)سماج میں سدھار لانے میں خواتین کی تحریکوں اور جدوجہد نے کافی اہم کردار اد اکیا ہے۔دستور کے معمار ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے نام سے چلائی جارہی تحریکوں کو کامیاب بنانے میں بھی خواتین کا کردار اہم رہاہے سماج میں سدھا ر اور تبدیلی لانے کیلئے خواتین کی طرف سے چلائی گئی تحریکوں کے بارے میں جانکاری ضروری ہے۔ان باتوں کا اظہا ر سابق چیرمین کرناٹک لیجس لیٹیو کونسل وی آر سدرشن نے کیا۔انہوں نے یہاں شہر کے پتراکرترا بھون میں کنڑا ساہتیہ پریشت کے زیراہتمام منعقدہ ”اودوگا کیلوگا “18ویں ماہانہ پروگرام میں ادیبہ سرسوتی کی تصنیف کردہ”ناؤ اتہاسا کٹیداوو“نامی کتاب کے تعلق سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شانتابائی،میناکشی،ساویتری باپولے اوردیگر نے خواتین کے حقوق کیلئے،ان کی آزادی کیلئے،تعلیم کیلئے او ر کمزور عقائد کو سماج سے دور کرنے کے سلسلے میں چلائی گئی تحریکیں کامیاب ہوئی ہیں او ر سماج میں تبدیلی اور سدھار کیلئے بھی کافی مدد گار ثابت ہوئی ہیں۔کسی بھی ایک ترقی پسند تحریک کیلئے تنقیدیں او ر مخالفت ضرور کی جائے گی۔ا ن سب کا سامناکرناضروری ہے،مگر اس کو ہمیشہ نظر انداز کرکے خود اپنی فکر میں مشغول ہیں۔گوتم بدھ،بسونااور امبیڈکر کی طرف سے چلائی گئی انقلابی تحریکوں پر بھی کافی تنقیدیں کی گئی تھیں،مگر بعد میں ان کی تعلیمات اور اصولوں کو سماج میں مثالی ماناگیا۔دستور کی تشکیل اور سماج میں بڑے پیمانے پر تبدیلی اور سدھار ممکن ہواتھا۔ادیبہ سرسوتی نے کہاکہ آزادی کے 75سال مکمل ہونے کے بعد بھی کمزور عقائد اور عدم یکسانیت کا رواج زندہ ہے،جس کی تازہ مثال مالور تعلقہ میں دلت لڑکے پر ہوئے ظلم کا معاملہ ہے۔ایک نابالغ لڑکے پر ذات پات کا امتیاز برتاجانا اور اس کا بائیکاٹ اور جرمانہ عائد کرنا کہاں کا انصاف ہے؟اس کی کھل کرمخالفت اور مذمت کرنی چاہئے۔اس موقع پر ڈاکٹر چندر شیکھر،سی ایم منی اپا،رگھوناتھ،گوپال گوڈا،جے جی ناگراج اور دیگر موجود تھے۔


Recent Post

Popular Links