پی ایف آئی کی ٹاپ لیڈرشپ سلاخوں کے پیچھے اب کیا ہے مودی حکومت کا منصوبہ؟

RushdaInfotech September 24th 2022 urdu-news-paper
پی ایف آئی کی ٹاپ لیڈرشپ سلاخوں کے پیچھے اب کیا ہے مودی حکومت کا منصوبہ؟

نئی دہلی:23ستمبر(ایجنسی) این آئی اے اور ای ڈی نے جمعرات کو 11 ریاستوں میں پی ایف آئی کے دفاتر اور ریاستی اور ضلعی سطح کے 100سے زائدرہنماؤں کے گھروں کی تلاشی لی تھی،جس کے دوران پارٹی کے کئی سرکردہ لیڈروں کو گرفتار کیاگیاتھا،سوال اٹھنے لگاہے کہ کیا مودی حکومت کے پاس ایسا کوئی ثبوت ہے جس بنیاد پرکارکنوں کوغداروطن قراردے اورانہیں دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس پرپابندی لگادے؟۔ اتنی لمبی اور تاریخی چھاپے ماری کے بعد بھی اگر مودی کی ایجنسیاں ثبوت پیش کرنے میں ناکام ثابت ہوتی ہیں تو کیاہوگا؟کیا مودی حکومت ملک سے معافی مانگے گی؟اب مودی سرکارکا اگلامنصوبہ کیاہے؟اس سے قبل پی آئی ایف کے خلاف جتنی بھی سازشیں رچی گئیں سب کے سب ناکام ہوئیں،تو کیا اب مودی حکومت اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہوجائے گی؟۔خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، این آئی اے حکام نے تلاشیوں کو اب تک کا سب سے بڑا تفتیشی عمل قرار دیا۔انگریزی پورٹل مکتوب انڈیانے تفصیلی رپورٹ میں بتایاکہ ٹاپ لیڈر شپ سلاخوں کے پیچھے پہنچادی گئی ہے، اب وہ تفتیش کے مرحلے میں ہے۔ یہ گرفتاریاں آندھرا پردیش (5)، آسام (9)، دہلی (3)، کرناٹک (20)، کیرلا(25)، مدھیہ پردیش (4)، مہاراشٹر (20)، پڈوچیری (3)، راجستھان (2) تمل ناڈو (10)اور اتر پردیش (8)کارکنوں کی ہوئیں۔پی ایف آئی کے قومی صدر او ایم اے سلام، نائب صدر ای ایم عبدالرحیم، قومی سکریٹری نصرالدین المرام اور کیرلا یونٹ کے صدر سی پی محمد بشیر کو کیرلا کے مختلف حصوں سے حراست میں لیا گیا۔ان کے علاوہ پی ایف آئی کے سابق صدراور ایس ڈی پی آئی کے بانی صدر ایراپنگل ابوبکرسینئر صحافی اور نیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن (این سی ایچ آر او)کے جنرل سکریٹری پروفیسر پی کویا کو بھی انسداد دہشت گردی ایجنسیوں نے کیرلا سے گرفتار کیاہے، دہلی یونٹ کے صدر پرویز احمد اور ان کے بھائی کو اوکھلا سے گرفتار کیاگیا آج ان گرفتاریوں کے خلاف پی ایف آئی نے ہڑتال کی کال دی ہے۔


Recent Post

Popular Links