کچھ مسلم فکر مند شہری موہن بھاگوت کے دربارمیں کافر،جہاداورامت مسلمہ جیسے الفاظ پرآرایس ایس کا زبرست اعتراض کیا علمائے کرام اور مسلم دانشور ہندوستان کے تناظرمیں اس کا داعیانہ جواب دیں گے؟

RushdaInfotech September 22nd 2022 urdu-news-paper
کچھ مسلم فکر مند شہری موہن بھاگوت کے دربارمیں  کافر،جہاداورامت مسلمہ جیسے الفاظ پرآرایس ایس کا زبرست اعتراض کیا علمائے کرام اور مسلم دانشور ہندوستان کے تناظرمیں اس کا داعیانہ جواب دیں گے؟

نئی دہلی-21ستمبر(ایجنسی)مختلف ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق کچھ مسلم فکرمند شہریوں نے آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے دربارمیں حاضری دیتے ہوئے ان سے ملاقات کی -اس موقع پر بھاگوت نے وہی اعتراضات سامنے رکھے جو اس سے قبل آر ایس ایس کے ا یک مرکزی لیڈراور نظریہ ساز رام مادھونے مسلمانوں کو ایک3نکاتی فارمولہ یا 3شرائط پیش کرتے ہوئے کہاتھاکہ ان کے ذریعہ وہ ہندوستان میں سکون کے ساتھ زندگی گزارسکتے ہیں -یہ شرطیں کچھ اس طرح تھیں کہ مسلمان غیرمسلموں کو کافرنہ کہیں،مسلمان خودکو امت اسلام یا امت مسلمہ کا حصہ سمجھنا ترک کردیں اور مسلمان جہادکے نظریہ سے خودکو الگ کرلیں - موہن بھاگوت نے کہا کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کو اس ملک کا حصہ مانتے ہیں اور ان کو مسلمانوں کے مذہبی ارکان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم انہوں نے لفظ کافر اور جہاد کے تعلق سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا -بلکہ دوسری شرط یعنی مسلمانوں کے امت مسلمہ کے تصور سے ہمیشہ ہی نہ صرف ہندوقوم پرست بلکہ لبرل عناصربھی نالاں رہے ہیں اورایک عرصہ سے سرکاری و غیرسرکاری طورپر کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس کوردکریں -انتہاپسند پروین توگڑیانے بھی ایک موقع پر کہاتھاکہ اسلام کے علاوہ دیگرمذاہب یعنی سکھوں،بدھوں اور جینیوں نے ہندوؤں کے ساتھ رہنے کا سلیقہ سیکھاہے،مسلمانوں کوبھی ہندوؤں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ہندوستان میں رہنے کا سلیقہ سیکھنا چاہئے- مذکورہ شرائط پر علمائے کرام اور مسلم دانشوروں کو رام مادھوکے باتوں کاجواب دینا چاہئے،لیکن ہمیشہ کی طرح علمائے کرام اور مسلم دانشور خاموش رہے اور اب جبکہ آر ا یس ایس سربراہ بھاگوت نے اعتراض کیا ہے تب بھی علمائے کرام اور مسلم دانشور خاموش ہیں،کیا انہیں ہندوستان کے تناظرمیں داعیانہ اورتسلی بخش جواب نہیں دیاجاسکتا - کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیاکہ ان کے سامنے حکمت سے بھری اسلام کی دعوت کو پیش کیاجائے؟بہرحال،مسلمانوں کے تعلق سے فکر کرنے والے چندلوگوں نے موہن بھاگوت سے ملاقات توکرلی لیکن اس ملاقات سے پہلے نہ تو اس کے مقاصد بیان کئے گئے اور نہ ہی فوری بعد ملاقات کی تفصیل فراہم کی گئی- یہی وجہ ہے کہ اس خفیہ ملاقات پر کئی طرح کے سوالات کھڑے ہو رہے ہیں -سوال یہ ہے کہ کچھ مسلم فکرمند شہری اگر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کرتے ہیں، تو کیا وہ جانے سے پہلے یا ملاقات کے بعد مسلمانوں کو اعتماد میں نہیں لے سکتے؟ یا کوئی بیان جاری نہیں کر سکتے؟ ایک روزنامہ میں شائع خبر کے مطابق 5 مسلم اشخاص نے3ہفتہ قبل دہلی کے کیشو پورم میں موہن بھاگوت سے ملاقات کی تھی، تاہم اس طرح کی خفیہ ملاقات کا کیا مقصد تھا، اس کا آنے والے وقت میں ہی پتہ چل پائے گا-شاہد صدیقی جو ملاقات کرنے والوں میں ایک رکن تھے، انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نوپور شرما کے گستا خانہ تبصرے کی وجہ سے ملک میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس کی وجہ سے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کرنے کا ارادہ کیا تھا - ملاقات کرنے والے اشخاص کے ذہن میں آ ر ایس ایس کا قد اور اس کا بر سر اقتدار جماعت پر اثر تھا، اسی وجہ سے انہیں لگا کہ ملک کے موجودہ حالات میں موہن بھاگوت سے ملنا ضروری ہے- شاہد صدیقی نے مزید بتایا کہ جن مسلمانوں نے ملاقات کی تھی انہوں نے بھی ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستانی کہہ کر ان کی حب الوطنی پر شک کئے جانے جیسے مسئلہ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا - ملاقات کرنے والوں نے کہا کہ وہ مسلم برادری کی نمائندگی نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ فکر مند شہری کی طرح ملاقات کر رہے ہیں اور وہ غلط فہمی کا ازالہ کرنے کے خواہاں ہیں کیونکہ ملک کی ترقی پرامن ماحول میں ہی ممکن ہے-واضح رہے اس سے پہلے بھی مسلم مذہبی اور سیاسی رہنما آ ر ایس ایس قیادت سے خفیہ ملاقات کرتے رہے ہیں اور ہر مرتبہ ان ملاقاتوں کے بارے میں دیر سے ہی پتہ لگتا ہے - اس طرح کی ملاقاتوں کا تذکرہ نہ تو پہلے ہوتا ہے اور نہ ہی بعد میں کیا جاتا ہے- اگر یہ ملاقاتیں اتنی اہم ہیں تو ان کے بارے میں ذکر کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئے- بہرحال اس ملاقات سے ایک مرتبہ پھر آر ایس ایس کی اہمیت اور قد کا اندازہ ہو جاتا ہے- ملاقات میں جن مسلم فکرمند شہریوں نے شرکت کی ان میں سابق الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی، جنرل ضمیر الدین شاہ، سابق ایل جی نجیب جنگ، سعید شیروانی اور شاہد صدیقی شامل تھے-


Recent Post

Popular Links