آئین کے تحفظ سے ہی جمہوریت کی بقا ممکن: جسٹس ناگ موہن داس قومی پرچم کی بے مرمتی کرنے والے ہر گھر ترنگا مہم چلارہے ہیں۔ دنیش مٹو

RushdaInfotech August 12th 2022 urdu-news-paper
آئین کے تحفظ سے ہی جمہوریت کی بقا ممکن: جسٹس ناگ موہن داس قومی پرچم کی بے مرمتی کرنے والے ہر گھر ترنگا مہم چلارہے ہیں۔ دنیش مٹو

میسورو:11/ اگست (پیر پاشاہ) ہائی کورٹ کے وظیفہ یاب جسٹس ایچ، این، ناگ موہن داس نے کہا کہ آئین کے تحفظ سے ہی جمہوریت کی بقا ممکن ہے۔ میسورو یونیورسٹی کے وگنان بھون میں دلت سنگھرش سمیتی اور میسور یونیورسٹی ریسرچرس اسوسی ایشن کے زیر اہتمام ”جمہوریت کی بقا کیلئے آئین کا مطالعہ“ پر مباحثہ اور ادیب دیونور مہادیوا کی لکھی کتاب ”آر ایس ایس گہرائی اور وسعت“ کا اجراء کرتے ہوئے جسٹس ناگ موہن داس نے اس خیال کااظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو آزادی حاصل ہونے کے دوران چند بنیاد پرستوں نے ملک کو ہند وراشٹر قرار دینے کا مطالبہ کیا، لیکن آئین کے تخلیق کاروں نے ملک کو سکیولر قرار دیا جس سے خفا ہوکر بنیاد پرست آج بھی ملک کو ہندوراشٹر قرار دینے کی کوشش میں لگے ہیں۔ آئین پر حلف لینے کے بعد اقتدار حاصل کرنے والے آئین کے خلاف قوانین جاری کررہے ہیں اور خاموشی کے ساتھ آئین میں ترمیم کی کوشش کررہے ہیں۔ صحافی دنیش امین مٹو نے کہا کہ دیونور مہادیوا کی کتاب دماغ کو لگے زنگ کو پاک کرے گی اور انہو ں نے اس کتاب میں آر ایس ایس کی پول کھول دی ہے۔ قومی پرچم کا احترام نہ کرنے والے آج ہر گھر ترنگا مہم چلارہے ہیں۔ میسور یونیورسٹی کے احاطہ میں درختوں پر ترنگا لپیٹا گیا ہے۔ قومی پرچم کو تیار کرنے اور لہرانے رہنما خطوط جاری کئے گئے ہیں۔ دھارواڑ میں پورے ملک کیلئے قومی پرچم تیار کئے جاتے ہیں لیکن مرکزی حکومت چین سے پرچم منگوا رہی ہے۔ انہو ں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت کے باوجود آر ایس ایس کے ٹویٹر اکاؤنٹ میں ڈی پی تبدیل نہیں کیا گیا۔ آر ایس ایس کے سر سنگھ سنچالک موہن بھاگوت نے مودی کے فرمان کو نظر انداز کیا ہے اور 52سال سے آر ایس ایس کے سنٹرل دفتر پر قومی پرچم لہرایا نہیں گیا،لیکن اب قومی پرچم کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔ امین مٹو نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا اور موجودہ وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی دونوں بسویشور کے پیروکار ہیں،لیکن دونوں نے بسویشور کے اصولوں کے خلاف کام کیا ہے۔ ایڈی یورپا نے گجرات کی طرز پر حکومت چلانے کی آواز دی،جبکہ بومئی نے اتر پردیش حکومت کے ماڈل کو اپنانے کا اعلان کیا ہے۔پروگرام میں دلت سنگھرش سمیتی کے ضلع کنوینر بیٹیا کوٹے، شیولنگیا، میسور یونیورسٹی ریسرچرس اسوسی ایشن کے صدر نٹراج شیونا ودیگر حاضر رہے۔


Recent Post

Popular Links