انسداد کرپشن بیورو ختم، کرناٹک ہائی کور ٹ کا تاریخی فیصلہ کرپشن کے تمام معاملوں کی جانچ کے اختیارات لوک آیوکتہ کو بحال کر دئیے گئے

RushdaInfotech August 12th 2022 urdu-news-paper
انسداد کرپشن بیورو ختم، کرناٹک ہائی کور ٹ کا تاریخی فیصلہ کرپشن کے تمام معاملوں کی جانچ کے اختیارات لوک آیوکتہ کو بحال کر دئیے گئے

بنگلورو:11اگست(سالار نیوز) جمعرات کے روز کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کرناٹک میں کرپشن پر قابو پانے کیلئے قائم انسداد کرپشن بیورو(اے سی بی) کو ختم کرنے اور اس کے پا س زیر التوا تمام کیسوں کو لوک آیوکتہ میں منتقل کردینے کا حکم صادر کیا۔ریاستی حکومت کی جانب سے 2016میں اے سی بی کا قیام انسداد کرپشن قانون کے تحت کیا تھا۔اے سی بی کے قیام کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی عرضیوں کو نپٹا تے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ کی ڈیویڑن بینچ نے جو جسٹس ہیم لیکھا اور جسٹس ویرپا پر مشتمل تھی یہ حکم صادر کیا کہ فی الحال اے سی بی کے پاس جتنے بھی کیس ہیں ان تمام کو لوک آیوکتہ میں منتقل کردیا جائے گا۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ حکومت صرف ایک سرکاری ایگزی کیٹیو حکم کے ذریعے اے سی بی کے قیام میں غلط تھی،جبکہ ریاست میں کرپشن پر نظر رکھنے کیلئے پہلے ہی لوک آیوکتہ موجود ہیں۔ عدالت نے اس ضمن میں 19مارچ 2016کو ریاستی حکومت کی طرف سے جاری سرکاری حکم نامہ کو کالعدم قرار دے کر لوک آیوکتہ پولیس کو یہ اختیار دیا کہ وہ انسداد کرپشن قانون کے تحت جانچ کرنے کے اپنے اختیارات کا استعمال کرے اور ساتھ ہی ایک پولیس اسٹیشن کے طور پر کام کرے۔ بینچ نے کہا کہ اب چونکہ اے سی بی کے قیام کے احکامات کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے اس لئے فوری انسداد کرپشن بیورو ختم ہو جاتا ہے۔لیکن فی الحال اے سی بی کے سامنے جو بھی معاملہ، جانچ وغیرہ ہے وہ از خود لوک آیوکتہ میں منتقل ہو جائے گی۔ یہ عرضیاں ایڈوکیٹس اسوسی ایشن بنگلورو، سماج پریورتنا سمودایا اور دیگر رضاکاراداروں کی طرف سے دائر کی گئی تھیں۔ ان عرضیوں میں حکومت کی طرف سے کرپشن کے معاملات کی جانچ کرنے کے اختیارات سے لوک آیوکتہ کو محروم کرنے اور انسداد کرپشن قانون کے تحت کارروائی کا اختیار اے سی بی کو دئیے جانے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ کرناٹک میں 2016کے دوران اس وقت کی سدارامیا حکومت نے اے سی بی کا قیام عمل میں لایا تھا اور یہ محکمہ ڈی پی اے آر کے تحت کام کر رہا تھا۔عدالت نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ تین سال کی مدت کیلئے لوک آیوکتہ کے افسروں کا تقرر فوری کیا جائے۔ تقرر کے عمل میں صرف ان افسروں کی صلاحیت کو ہی خاطر میں لایا جائے۔ذات پات کی بنیاد پر تقرریاں نہ کی جائیں۔ عدالت نے لوک آیوکتہ کو ہدایت دی ہے کہ کرپشن کے معاملوں کی جانچ کے مرحلہ میں بدعنوا ن عناصر کے ساتھ کسی طرح کی مروت نہ برتی جائے۔


Recent Post

Popular Links