ہندوستانی جمہوریت ہی نہیں، پوری تہذیب ہی خطرے میں جو ہمیں پاکستان بھیجنے کی بات کہتے ہیں، ان کے خلاف ہمیں بھارت چھوڑو نعرہ لگانا چاہیے:دانشوران

RushdaInfotech August 11th 2022 urdu-news-paper
ہندوستانی جمہوریت ہی نہیں، پوری تہذیب ہی خطرے میں  جو ہمیں پاکستان بھیجنے کی بات کہتے ہیں، ان کے خلاف ہمیں بھارت چھوڑو نعرہ لگانا چاہیے:دانشوران

نئی دہلی:10/اگست(ایجنسی)ہندوستان کے مشہور و معروف دانشوروں نے ملک میں جمہوریت کو بچانے کیلئے ایک بار پھر بھارت چھوڑو تحریک شروع کرنے کی لوگوں سے اپیل کی ہے۔ دانشوروں کا کہنا ہے کہ جو لوگ بات بات میں ہمیں پاکستان بھیجنے کی بات کہتے ہیں، ان کے خلاف ہمیں بھارت چھوڑو کا نعرہ لگانا چاہیے۔ یہ اپیل شیوپوجن سہائے کی یاد میں ملک کی راجدھانی دہلی میں منعقد ایک تقریب کی گئی۔اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہندی کے مشہور ادیب اشوک واجپئی اور مشہور و معروف مؤرخ مردولا مکھرجی، انٹرنیشنل بکر پرائز سے سرفراز مصنفہ گیتانجلی شری اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ مردولا گرگ نے بھی لوگوں سے بھارت چھوڑو کا نعرہ دینے کی گزارش کی۔ تقریب میں رامیشوری نہرو کے ذریعہ 1909 میں شروع کیے گئے رسالہ استری درپن کے نئے شمارہ کا اجرا بھی کیا گیا۔ اس رسالہ کے مدیر سینئر صحافی کوی اروند کمار اور اگنو میں پروفیسر سویتا سنگھ ہیں۔اس تقریب کا انعقاد دہلی میں واقع انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں کیا گیا۔ رضا فاؤنڈیشن اور استری درپن کے ذریعہ منعقد اس تقریب میں کئی مشہور و معروف چہروں نے شرکت کی۔ تقریب میں مقررین نے یہ بھی کہا کہ آزادی کی لڑائی میں خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور آج خواتین کی آزادی کے بغیر آزادی کا کوئی مطلب نہیں ہے۔اس موقع پر اشوک واجپئی نے کہا کہ آج ہندوستانی جمہوریت ہی نہیں بلکہ پوری تہذیب ہی خطرے میں ہے۔ پانچ ہزار سال پرانی ہماری تہذیب اور ثقافت نے کچھ اقدار تیار کیے تھے لیکن آج سب منہدم ہوتے جا رہے ہیں۔ انھوں نے اس بحران کیلئے ہندی بیلٹ کو ذمہ دار ٹھہرایا جہاں قتل سے لے کر عصمت دری اور جرائم کے واقعات سب سے زیادہ ہیں۔گیتانجلی شری نے سماج میں مذہبی جذبات کے مجروح ہونے کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں آئے دن خواتین کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ ان کا اشارہ گزشتہ دنوں آگرہ میں ان کے ساتھ پیش آئے واقعہ کی طرف تھا جب ان کی کتاب ریت سمادھی پر مذہبی جذبات کے مجروح ہونے کا الزام لگا کر ان کا پروگرام رد کر دیا گیا تھا۔مشہور و معروف ادیب مردولا گرگ نے کہا کہ اس بحران کیلئے ہم بھی کچھ حد تک ذمہ دار ہیں، کیونکہ تاناشاہ کو ہم نے منتخب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر تاناشاہ تاریخ میں گزشتہ تاناشاہوں کے خاتمہ سے کچھ نہیں سیکھتا۔ مردولا مکھرجی نے اس موقع پر آزادی کی لڑائی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت چھوڑو تحریک میں خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔


Recent Post

Popular Links