گیان واپی مسجد معاملے میں آئندہ سماعت 18 اگست کو

RushdaInfotech August 5th 2022 urdu-news-paper
گیان واپی مسجد معاملے میں آئندہ سماعت 18 اگست کو

نئی دہلی۔4 /اگست (ایجنسیز)گیان واپی مسجد معاملے کی سماعت اب ضلع جج اجے کرشنا وشویش کی عدالت میں 18 اگست کو ہوگی۔ بدھ کو مسلم انجمن انتظامات مسجد کمیٹی کی جانب سے عدالت میں درخواست دی گئی۔ وارانسی: گیان واپی مسجد شرینگار گوری کیس میں ضلع جج اجے کرشنا وشویش کی عدالت میں آئندہ سماعت 18 اگست کو ہوگی۔ اس سے قبل ہونے والی سماعت میں مدعی کی جانب سے اپنے نکات رکھے گئے ہیں اور آج مسلم فریق کو کانٹر داخل کرتے ہوئے اعتراض دینے کا موقع دیا جائے گا۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہندو فریق کی طرف سے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے مسلم فریق کے چیف ایڈوکیٹ ابھے ناتھ یادو کی اپیل پر 4 اگست کی تاریخ دی تھی، لیکن کچھ دن پہلے ہی امرناتھ یادو کو دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی، جس کی وجہ سے مسلم فریق اپنے نئے چیف وکیل کے ساتھ عدالت میں داخل ہوگا۔ نئے وکیل کے ذریعے پورے معاملے کو نئے سرے سے عدالت کے سامنے رکھا جائے گا۔دراصل گیان واپی شرینگار گوری کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد مئی کے مہینے سے اس کیس کی سماعت سینئر سول ڈویژن روی کمار دیواکر کی عدالت سے ڈسٹرکٹ جج کورٹ میں منتقل کی جارہی ہے۔ معاملہ برقرار ہے یا نہیں اس حوالے سے عدالت میں کارروائی جاری ہے۔ اس معاملے میں سماعت کی جا سکتی ہے یا نہیں، اس حوالے سے عدالت میں کارروائی چل رہی ہے۔اس کیس میں ہندو فریق یعنی مدعی نے مسلم فریق کی جانب سے اپنا نقطہ نظر رکھتے ہوئے 51 نکات پر دلائل مکمل کر لیے تھے، جس کے بعد پہلے مدعی نمبر 2 سے 5 منجو ویاس، ریکھا پاٹھک، سیتا ساہو اور لکشمی دیوی کے وکلاء نے اپنی باتیں عدالت کے سامنے رکھی تھیں۔ جس میں ہری شنکر جین اور وشنو جین نے شری کاشی وشواناتھ ایکٹ پر تمام دلائل پیش کرتے ہوئے گیان واپی کمپلیکس کو دیوتا کی ملکیت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ گیان واپی کمپلیکس ہندوؤں کی ملکیت ہے۔جس کے بعد مدعی نمبر ایک راکھی سنگھ کے وکلاء کی جانب سے یہ دلیل دی گئی ہے کہ یہ واقعہ شرنگار گوری میں باقاعدہ درشن کے بارے میں ہے نہ کہ گیانواپی کیمپس میں کیا ہے اور کیا نہیں، یہ دونوں الگ الگ معاملات ہیں۔ اس لیے یہ معاملہ قابل سماعت ہے۔ہندو فریق نے 100 فیصلوں کے ساتھ 361 صفحات اپنے اور کمنٹ کے کورٹ کے سامنے رکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سنہ 1993 تک یہاں شرنگار گوری کی پوجا ہوتی تھی، اب بھی کرنی چاہئے۔ سال 1993 میں حکومت نے اچانک رکاوٹیں لگا کر باقاعدہ درشن اور پوجا بند کر دی۔ اس لیے پلیسز آف ورسز ایکٹ اور وقف ایکٹ یا کوئی ایکٹ کی دفعات شرنگار گوری کیس میں لاگو نہیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ گیان واپی کی کسی بھی زمین پر ہمارا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔


Recent Post

Popular Links