ہندوستانی مسلمان مثبت طرز فکروعمل کے ساتھ آگے بڑھیں دہلی میں جاری دوروزہ تعلیمی کانفرنس میں ڈاکٹر رحمن خان کا صدارتی خطاب

RushdaInfotech July 3rd 2022 urdu-news-paper
ہندوستانی مسلمان مثبت طرز فکروعمل کے ساتھ آگے بڑھیں  دہلی میں جاری دوروزہ تعلیمی کانفرنس میں ڈاکٹر رحمن خان کا صدارتی خطاب

نئی دہلی۔2/جولائی(سالار نیوز)سابق مرکزی وزیر،اکٹر کے رحمن خان نے کہا ہے کہ منفی سوچاور عدم اعتماد مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہی ہے۔ مثبت تدبیر کے ساتھ آگے بڑھنا اور خود احتسابی کے ذریعے اپنی ترقی کے لئے پیش رفت بنائے رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نئی دہلی میں اے ای ای ڈی یو اور جامعہ ہمدرد کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ تعلیمی سمینار میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مولانا ابولکلام آزاد کے خیالات کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو اقلیت ہونے کے احساس کمتری سے باہر آئیں اور سمجھیں کہ وہ اس ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے آپ سے ہمدردی کرتے ہوئے جائزہ لینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہماری لیاقت، محبت اور صلاحیت کو بروئے کا لاتے ہوئے اپنے حالات کے سدھار پر متوجہ ہو نا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی طرح کے امتیازیسلوک کے تدارک کے لئے آئین کی دفعات 15اور 16ہمارے ساتھ ہیں۔ ڈاکٹر رحمن خان نے مزید بتایا کہ احساس لاحاصل سے دورہو کر مثبت طرز فکر و عمل کو اپنانا ہی ہماری بقا کا ضامن ہو گا۔حصول آزادی کے 75سال بعد بھی ہمارا خود کو پسماندہ محسوس کرنا ہمیں دیگر برادران وط سے دور کردیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات سے خوفزدہ ہونا نہیں ہے بلکہ حکمت،صبر،تحمل اور دانشمندی سے زندگی گزارنا چاہئے۔اس دوروزہ کانفرنس میں سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی،جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے سابق شیخ الجامعہ اور دہلی کے سابق لفٹنٹ گورنر نجیب جنگ، سابق رکن راجیہ سبھا اور ہفتہ وار نئی دنیا کے مدیرشاہد صدیقی، جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر ڈاکٹر افشاد عالم اور دیگر نے بھی اس کانفرنس سے خطاب کیا۔ ملک بھر سے ایک سو سے زائد ماہرین تعلیم نے اس کانفرنس کے پہلے روز الگ الگ سیشنس میں حصہ لیا۔کئی اراکین پارلیمانو اسمبلی کے علاوہ کرناٹک کے سابق وزیر آر روشن بیگ، علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کی مجلس عاملہ کے رکن آصف فاروقی بھی شرکا ء میں شامل رہے۔


Recent Post

Popular Links