کانگریس پارٹی لیڈروں کی نفرت کی سیاست سے فرقہ پرست بی جے پی کو ریاست میں اقتدار حاصل ہوگیا: کمارسوامی

RushdaInfotech June 22nd 2022 urdu-news-paper
کانگریس پارٹی لیڈروں کی نفرت کی سیاست سے  فرقہ پرست بی جے پی کو ریاست میں اقتدار حاصل ہوگیا: کمارسوامی

میسور: 21جون (پیر پاشاہ۔ نامہ نگار) بنی منٹپ میں جوڑی تینگنا مرا روڈ پر واقع ایک وسیع میدان میں جنتا دل ا یس کے زیر اہتمام جنتا ویدیکے نامی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے قائدین نے اپنی پارٹیوں کو خیر آباد کہہ کر جے ڈ ی ایس کے ریاستی صدر سی ا یم ابراہیم اور سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کی موجود گی میں پارٹی میں شامل ہوئے۔ اس پروگرام میں سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی، ریاستی صدر و سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم، قومی جنرل سکریٹری محمد ظفر اللہ خان، ایم ایل سیز کے ٹی سری کنٹھے گوڈا اور منجے گوڈا، عبداللہ، ڈاکٹر محبوب خان، میسور سٹی جے ڈی ایس صدر چیلوے گوڈا، اورکانگریس پارٹی کو خیر باد کہہ کر جنتا دل (یس) میں شامل ہونے والے عبدالقادر شاہد اور کئی قائدین موجود تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سی ا یم ابراہیم نے کہا کہ حال ہی میں منعقدہ کرناٹکا کے راجیہ سبھا کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے تیسرے امیدوار لہر سنگھ کی جیت کیلئے کانگریس پارٹی ہی ذمہ دار ہے۔کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار اور سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا نے بی جے پی کے تیسرے امیدوار لہر سنگھ کی کامیابی کیلئے پورا تعاون کیا تھا۔ کانگریس کے دو اراکین اسمبلی نے بی جے پی کے امیدوار کیلئے دوسرے ترجیحی ووٹ دئے تھے۔اگر اس معاملے کی تفصیل سے تحقیقات کی جائیں توتمام حقائق سامنے آجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو خیر باد کہہ کر جنتا دل ایس میں شامل ہورہے عبدالقادرعرف شاہد اور عبداللہ میرے دو ہاتھ کی طرح ہیں۔ عبدالعزیز عبد اللہ نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ 25برسوں سے کانگریس کیلئے کام کیا ہے،لیکن کانگریس میں ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں کوئی عہدہ دیا گیا۔ جیسے ہی وہ جے ڈی ایس میں شامل ہوئے انہیں اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کی جنتا دل ایس سے ٹکٹ دیاگیا اور ان کی عزت افزائی کی گئی ا ور عوام میں متعارف کرایا گیا۔ایچ ڈی کمار سوامی نے کانگریس پارٹی اور اس کے لیڈروں پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہاکہ آج ریاست میں عوام اور اقلیتی مخالف بی جے پی کی حکومت کیلئے کانگریس کی سیاسی رقابت ہی ذمہ دار ہے۔ ساحلی علاقے منگلور سے کالج کے یونیفارم و حجاب کو لے کر بھڑکا ئی گئی چنگاری سے آج برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ریاست میں ہندو مسلم دشمنی کا ماحول بنارکھا ہے۔ گزشتہ چار مہینوں سے ریاست میں مسلمانوں کے مذہبی معاملوں میں کئی طرح کی بندشوں کو لاگو کرواکر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو آپسی دشمنی پیدا کررہی ہے۔ جس کے لئے پوری طرح سے کانگریس ہی ذمہ دار ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں سابق وزیراعلیٰ سدارامیا نے جنتا دل ایس کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی بی ٹیم ہونے کا اشارہ دیا تھااور عوا م سے کہا تھاکہ جنتا دل ایس کو ووٹ دیں گے تو بی جے پی کو ووٹ دینے کے برابر ہوگا۔ اس طرح اقلیتوں میں شک کا ماحول پیدا کرکے جے ڈی ایس کے خلاف مہم چلائی تھی۔ابتداء میں عوام کو کچھ دینے کا اعلان کرکے کانگریس 122 سے 78کی نچلی سطح پر گرگئی تھی۔ 104سیٹوں والی بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار پر نہ لانے کی وجہ سے ہم نے کانگریس سے ہاتھ ملایا تھا۔ مگر میرے وزیراعلیٰ کے عہدے کو کانگریس کے سینئر قائد سدارامیا ایک دن بھی برداشت نہیں کرپارہے تھے۔ کیونکہ وہ خود وزیر اعلیٰ بننے کے خواشمند تھے۔کمار سوامی نے کہا کہ جب مسلسل بارشوں کی وجہ سے ریاست کے عوام کافی پریشان تھے تب وزیراعظم نریندر مودی کو ریاست کا دورہ کرنے وقت نہیں تھا،لیکن اب انٹرنیشنل یوگاڈے میں شرکت کیلئے وہ میسور کا دورہ کررہے ہیں۔ کیا یوگا کے پروگرام میں شرکت کرنے سے عوام کے مسائل حل ہوجائیں گے؟۔ وزیر اعظم کے دورے کیلئے خرچ کئے جارہے کروڑوں روپئے پر بھی کمار سوامی نے کڑی تنقید کی۔


Recent Post

Popular Links