ممبئی: مدرسے کے 22حفاظ قرآن ایس ایس سی امتحان میں کامیاب

RushdaInfotech June 20th 2022 urdu-news-paper
ممبئی: مدرسے کے 22حفاظ قرآن ایس ایس سی امتحان میں کامیاب

ممبئی۔19جون (ایجنسی)مہاراشٹر میں جمعہ کے روز ایس ایس سی(سینئر سیکنڈری)امتحان کے نتائج کا اعلان کیا گیا، جس میں 96.94 فیصد طلبا نے کامیابی حاصل کی۔ اس امتحان میں ایک مدرسے کے 20 سے زیادہ حفاظ قرآن نے بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق ایک ہی عمارت میں چلنے والے مالوانی (ملاڈ) میں واقع جامعہ تجوید القرآن مدرسہ اور نور مہر اُردو اسکول کے22 طلبا نے ایس ایس سی امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے اور یہ 22 طلبا حافظ قرآن بھی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں شامل ابو طلحہ انصاری نے ایس ایس سی میں 83.40 فیصد نمبر حاصل کیے ہیں اور وہ بہت خوش ہیں۔اسکول-مدرسہ کے بانی سید علی کہتے ہیں اس سال ایس ایس سی کا امتحان دینے والے 22حافظوں میں سے 14 نے امتیازی کامیابی حاصل کی ہے جبکہ 8 نے 60 فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے طلبا نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔خیال رہے کہ یہ مدرسہ جس عمارت میں چل رہا ہے اسے ایک کاروباری علی بھائی نے 2000میں تعلیمی ادارے میں تبدیل کر دیا تھا۔ تبھی سے چل رہے مدرسہ کے 13 بچوں نے سال 2011 میں ایس ایس سی کا امتحان پاس کیا تھا۔ گزشتہ عشرے کے دوران یہاں کے97 حافظوں نے ایس ایس سی امتحان پاس کیا ہے، ان میں سے کچھ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ کچھ ملازمت کر رہے ہیں۔علی بھائی کہتے ہیں، ہمارے کچھ حافظ اب انجینئر، ڈاکٹر اور فارماسسٹ ہیں۔ وہ مین اسٹریم کی جاب مارکیٹ میں شامل ہو گئے ہیں اور اچھی تنخواہیں کمارہے ہیں۔ مدارس کی تعلیم کو جدید بنانے پر اکثر بحث ہوتی رہتی ہے اور بہت سے مدارس اپنے نصاب میں سائنس اور ریاضی جیسے جدید مضامین متعارف کرانے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے دینی تعلیم متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم علی بھائی کا تجربہ کافی اچھا رہا اور وہ مشعل راہ دکھانے کا کام کر رہے ہیں۔ابتدا میں طلبا کی رہنمائی اور کونسلنگ میں بانی مدرسہ کی مدد کرنے والے کیرئیر کونسلر شیخ اخلاق احمد کہتے ہیں، اس تجربہ پر ملک کے بہت سے مدارس میں عمل کیا جا سکتا ہے۔ جدید مضامین کی درس و تدریس سے دینی تعلیم میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔ملاڈادارے کے استاد اور سوپروائزر حافظ اعزاز کہتے ہیں کہ یہ سال واقعی بہت مشکل تھا۔ انہوں نے کہا ”آٹھ ماہ تک لاک ڈاؤن کی وجہ سے طلبا کو آن لائن پڑھایا گیا۔ وہ صرف چار ماہ ہی آف لائن کلاسز میں شریک ہو سکے لیکن ہم نے انہیں سخت محنت کی طرف راغب کیا۔


Recent Post

Popular Links