آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے کیس میں ڈی کے شیو کمار کے خلاف چارج شیٹ

RushdaInfotech May 27th 2022 urdu-news-paper
آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے کیس میں   ڈی کے شیو کمار کے خلاف چارج شیٹ

بنگلورو۔26/مئی(سالار نیوز)کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی صدر ڈی کے شیو کمار کے خلاف جمعرات کے روز انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے غیر قانونی اثاثوں کے معاملہ میں چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے شیو کمار نے کہا کہ ای ڈی کی طرف سے چارج شیٹ دائر کئے جانے کی خبر انہیں میڈیا کے ذریعے ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ان کا اورعدالت کا ہے۔ انہیں عدالت پر پورا یقین ہے کہ وہ ان کے ساتھ انصاف کرے گی۔ اخباری نمائندو ں سے بات کرتے ہوئے شیو کمار نے کہاکہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کو اس معاملہ میں ان کو گرفتار کرنے کے 60دن کے انر چارج شیٹ داخل کرنی چاہئے تھی مگر ایسا نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ ای ڈی کی طرف سے بروقت چارج شیٹ دائر نہ کئے جانے کی بنیاد پر ہی ان کو ضمانت دی گئی تھی۔ اب تین سال بعد چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک اس چارج شیٹ کی نقل ان کو نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای ڈی کی طرف سے ان پر اس معاملہ میں نئے نئے الزامات لگانا ممکن نہیں۔ شیو کمار نے کہا کہ ان کے خلاف جو معاملہ درج کیا گیا ہے وہ ایک سیاسی سازش کا حصہ ہے۔ گجرا ت اسمبلی سے راجیہ سبھا کے لئے کانگریس رہنما احمد پٹیل کے انتخاب کو یقینی بنانے کے لئے انہوں نے بنگلورو میں جو انتظامات کئے تھے اس کا انتقا م لینے کے لئے انہیں اس فرضی معاملہ میں پھنسا یا گیا ہے۔ شیو کمار نے کہا کہ بارہا انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ پیدائشی کسان ہیں، پیشہ کے اعتبار سے تعلیمی ادارہ چلاتے ہیں اورسیاست ان کا شوق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اپنے ہی لوگوں کو نہیں بخش رہی ہے ایسے میں ان کو چھوڑدینے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی سیاسی پیش رفت میں جو بھی رکاوٹ بننے کی کوشش میں ہے بی جے پی اس کو روکنے میں لگی ہے۔ اس سوال پر کہ کیا انہیں ایسا لگتا ہے کہ انتخابات کو قریب دیکھ کر بی جے پی نے ان کے خلاف سازش رچائی ہے شیو کمار نے کہا کہ آئینی اداروں کو ایجنسیوں کا غلط استعمال کرنا شروع سے ہی بی جے پی کا کام رہا ہے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔دو ریاستی وزراء سنیل کمار اور اشوتھ نارائین کے اس بیا ن پر کہ شیو کمار جلد ہی جیل جانے والے ہیں شیو کمار نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ یہ تمام سیاسی میدان میں بڑے دوست ہیں اب وہی عدالت بن چکے ہیں اور خود فیصلے کر رہے ہیں۔


Recent Post

Popular Links