گیان واپی مقدمہ قابل سماعت ہے یا نہیں؟بحث نامکمل، آئندہ سماعت 30مئی کو

RushdaInfotech May 27th 2022 urdu-news-paper
گیان واپی مقدمہ قابل سماعت ہے یا نہیں؟بحث نامکمل، آئندہ سماعت 30مئی کو

لکھنؤ:26مئی(ایجنسی)وارانسی کے گیان واپی مسجد احاطہ میں شرنگار گوری کی مستقل پوجا کرنے کی اجازت دینے والی عرضی قابل سماعت ہے یا نہیں، اس تعلق سے ضلع جج ڈاکٹر اجئے کمار وشویش کی عدالت میں آج اہم سماعت ہوئی۔ عدالت نے سب سے پہلے مسلم فریق کی وہ دلیلیں سنیں جس میں کہا گیا ہے کہ شرنگار گوری کی مستقل پوجا یا دیگر مطالبات والی عرضیاں منظور کرنے لائق ہی نہیں ہے۔ مسلم فریق نے اس دوران شیولنگ ملنے کی باتوں کو بھی محض افواہ قرار دیا۔ کچھ اوقات میں مسلم اور ہندو فریق کے وکلا کے درمیان تلخ بحث بھی دیکھنے کو ملی۔ دونوں فریقین کی باتیں سننے کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت کیلئے 30 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پیر کے روز بھی مسلم فریق کے ذریعہ کچھ دلائل پیش کیے جائیں گے۔ ایسی امید بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس معاملے پر پیر کے روز عدالت کسی فیصلے پر پہنچ جائے گا۔شرنگار گوری-گیان واپی معاملے پر جمعرات کے روز تقریباً دو گھنٹے کی سماعت ہوئی، اور اس دوران بیشتر اوقات مسلم فریق نے اپنی باتیں عدالت کے سامنے رکھیں۔ مسلم فریق کی طرف سے انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی کے وکیل صاف طور پر رول 7، آرڈر 11 کے تحت شرنگار گوری معاملے کو خارج کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔ انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی کے وکیل ابھئے ناتھ یادو کا کہنا تھا کہ ہندو فریق کا یہ مقدمہ پوری طرح سے غیر مجاز ہے۔ اس لیے اسے سیول عمل تعزیرات کے رول 7، آرڈر 11 کے تحت خارج کیا جانا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ شیولنگ کا وجود صرف افواہوں میں ہے اور ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوا ہے۔ افواہوں کے نتیجہ میں عوامی طور پر بدامنی پھیل گئی ہے۔عدالت میں ہندو فریق کی طرف سے سپریم کورٹ کے وکیل ہری شنکر جین نے بھی اپنی باتیں رکھیں۔ انھوں نے شیولنگ برآمد ہونے کا تذکرہ بھی کیا۔ اس درمیان گیان واپی-شرنگار گوری سروے کے مقدمہ کی سماعت سے پہلے عدالت پہنچے ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے کہا کہ شیولنگ مسلم فریق کے قبضے میں تھا۔ انھوں نے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے ضلع جج کی عدالت کو مطلع کیا۔اس درمیان وارانسی کے لا امور کے صحافیوں نے گیان واپی معاملے کی رپورٹنگ کرنے دیے جانے کی اجازت مانگی ہے۔ عدالتی کمرے میں فی الحال صرف معاملے سے جڑے لوگوں کو ہی جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے بعد لا جرنلسٹ اسو سی ایشن کی طرف سے ضلع جج کو خط لکھ کر صحافیوں کو عدالتی کمرے میں جانے دینے کی اجازت مانگی گئی۔


Recent Post

Popular Links