کپل سبل کانگریس سے مستعفی ایس پی حمایت یافتہ امیدوار کی حیثیت سے راجیہ سبھا کا پرچہ داخل کیا

RushdaInfotech May 26th 2022 urdu-news-paper
کپل سبل کانگریس سے مستعفی  ایس پی حمایت یافتہ امیدوار کی حیثیت سے راجیہ سبھا کا پرچہ داخل کیا

لکھنو-25مئی(یواین آئی) کانگریس کے سابق لیڈر و وزیر کپل سبل نے سماج وادی پارٹی(ایس پی) کی حمایت سے اس بار پارلیمنٹ کی ایوان بالا راجیہ سبھا میں بطور آزاد رکن پہنچنے کیلئے اپنی دعویداری پیش کردی ہے -راجیہ سبھا میں اترپردیش سے آئندہ 4جولائی کو خالی ہورہی11سیٹوں پر ہونے جارہے الیکشن میں سبل نے بدھ کو اپنی متوقع سیاسی پارٹی کے پتے کھولتے ہوئے ایس پی صدر اکھلیش یادو کے ساتھ اسمبلی پہنچ کر پرچہ نامزدگی داخل کیا- سینئر وکیل سبل کانگریس کی حکومت میں کئی بار وزیر اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے رکن رہے ہیں -انہوں نے واضح کیا کہ اب وہ کانگریس کے سینئر لیڈر نہیں ہیں کیونکہ وہ16مئی کو ہی پارٹی سے استعفیٰ دے چکے ہیں - نامزدگی کے وقت سبل کے ساتھ اکھلیش کے علاوہ ایس پی کے راجیہ سبھا رکن رام گوپال یادو اور ایس پی کے ریاستی صدر نریش اتم سمیت دیگر لیڈر موجود تھے - اس موقع پر سبل نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہاکہ میں 16مئی کو ہی کانگریس سے استعفیٰ دے چکا ہوں - آج آزاد امیدوار کی حیثیت سے میں نے راجیہ سبھا کیلئے پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے - سماج وادی پارٹی میرا تعاون کررہی ہے - اکھلیش یادو کا شکریہ - انہوں نے مزید کہا کہ میں نے راجیہ سبھا رکن کیلئے آزاد امیدوار کے طور پر پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے - ایوان بالا میں آزاد رکن کے طور سے اپنی آواز اٹھاتے رہنے کی میری ہمیشہ کوشش رہی ہے -
مجھے خوشی ہے کہ اکھلیش نے اس ضرورت کو سمجھا ہے -انہوں نے دلیل دی کہ کسی پارٹی کا رکن ہونے کی وجہ سے پارٹی لائن کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے - انہوں نے کہاکہ اس کے برخلاف میرا یہ بھی ماننا ہے کہ ایوان میں آزاد امیدوار کی آزاد آواز بھی ہونا اتنا ضروری ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ جب ایک آزاد رکن کی آواز اٹھے گی تب لوگوں کو ایسا لگے گا کہ وہ آواز کسی پارٹی سے جڑی نہیں ہے -سبل نے کہا کہ راجیہ سبھا میں وہ اپنے گذشتہ میعاد کار میں بھی اترپردیش کے رکن ہونے کے ناطے اس ریاست کی آواز ایوان بالا میں اٹھاتے رہے ہیں اور شاید اگلے چھ سال تک اترپردیش کی آواز اٹھاتے رہیں گے - قابل ذکر ہے کہ کانگریس کے سینئر لیڈر رہے سبل کے گذشتہ کچھ وقت سے پارٹی قیادت سے اختلافات واضح ہونے کے بعد وہ عوامی سطح پر کانگریس کی کمیوں کو اجاگر کررہے تھے - وہ کانگریس کے عدم مطمئن لیڈروں کے گروپ جی-23کا بھی حصہ رہے ہیں -اس موقع پر سبل نے اپوزیشن کو متحد کر کے مودی حکومت کی ناکامیوں کو عوام تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا-


Recent Post

Popular Links