آسام:مسلمانوں میں تیزی سے کم ہورہی ہے شرح پیدائش

RushdaInfotech May 16th 2022 urdu-news-paper
 آسام:مسلمانوں میں تیزی سے کم ہورہی ہے شرح پیدائش

گوہاٹی:15مئی (ایجنسی)صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے ذریعہ کئے گئے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق، ہندوستان میں تمام مذہبی برادریوں کے اندر مسلمانوں کی شرح پیدائش پچھلی دو دہائیوں میں تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ جموں و کشمیر کے بعد دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی والے آسام میں ڈرامائی کمی دیکھی گئی ہے۔ پچھلے سالوں میں دیکھے گئے گرتے ہوئے رجحان کے مطابق، کمیونٹی کی زرخیزی (فرٹیلیٹی) کی شرح 16-2015 میں 2.8 سے کم ہو کر 2019-21میں 2.3 ہو گئی ہے۔ تمام مذہبی برادریوں کی شرح پیدائش میں کمی کے باعث ملک کی مجموعی شرح پیدائش میں کمی واقع ہوئی ہے۔آسام میں مسلمانوں کی شرح پیدائش 2008 سے تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ آسام میں مسلمانوں میں فی عورت بچوں کی کل شرح پیدائش (ٹی ایف آر) یا بچوں کی تعداد 2.4 ہے، جو ہندوؤں میں 1.8/ اور عیسائیوں میں 1.5 سے زیادہ ہے۔ یقینا مسلمانوں میں شرح پیدائش 2005-06 میں 3.8 سے کم ہوکر 21019-20میں 2.4 ہوگئی ہے۔دوسری جانب ہندوؤں کو 0.4 فیصد کا نقصان ہوا ہے۔ٹی ایف آرای 2.2 ہندوستان میں طے شدہ ہے۔ یہ اعداد و شمار آسام کی مسلم آبادی میں خطرناک حد تک اضافے کے مروجہ تاثر کے بالکل برعکس ہے۔ایک عام تاثر اور خدشہ ہے کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی ریاست کی اکثریتی برادری کو ایک وقت میں اقلیت بنا دے گی۔معروف سرجن پدم شری ڈاکٹر الیاس علی کا کہنا ہے کہ لڑکیوں میں تعلیم پھیلانا، خواتین کو بااختیار بنانا، صحت کی سہولیات کی ترقی، بچے کی پیدائش کے معاملے پر عوامی بیداری مہم جیسے بہت سے مثبت پہلو ہیں۔کم عمری کی شادی، آبادی میں تیزی سے اضافے کا سب سے اہم عنصر ہے اور نوجوان مسلم خواتین میں کم عمری کی شادی کی شرح 26.7% ہے اور مردوں میں یہ شرح 18% ہے۔ ہائی اسکول کا امتحان پاس کرنے والی خواتین کی شرح پیدائش 2.27 ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہائرسکنڈری اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی خواتین میں شرح پیدائش بہت کم ہے اور یہ صرف 1.56 ہے۔ ڈاکٹر علی کا کہنا ہے کہ تعلیم اور سماجی شعور کے پھیلاؤ کی وجہ سے کم عمری میں شادی کی شرح میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ خواتین کے تعلیمی ادارے ترجیحی بنیادوں پر قائم کیے جائیں۔واضح رہے کہ اس ترقی کا فرق ہندوؤں سے زیادہ تھا۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے-5 کے مطابق مسلمان بتدریج جدید مانع حمل طریقوں کو اپنا رہے ہیں۔

یہ تعداد نیشنل فیملی ہیلتھ سروے-4 میں 16 فیصد سے بڑھ کر نیشنل فیملی ہیلتھ سروے-5 میں 25.5 فیصد ہو گئی ہے۔


Recent Post

Popular Links