مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ریپو ریٹ میں 40بیس پوائنٹس کا اضافہ، قرضے مزید مہنگے ہوں گے

RushdaInfotech May 5th 2022 urdu-news-paper
مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ریپو ریٹ میں 40بیس پوائنٹس کا اضافہ، قرضے مزید مہنگے ہوں گے

ممبئی-4مئی (یو این آئی) بڑھتی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا نے اس پر قابو پانے کیلئے آج ریپو ریٹ میں فوری اثر سے 40بیس پوائنٹس کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے تمام قسم کے قرضے مہنگے ہو جائیں گے - کورونا کی مدت شروع ہونے کے بعد ریزرو بینک نے مئی 2020 کے بعد پہلی بار اس شرح میں اضافہ کیا ہے -2 / اور 4 مئی کو مانیٹری پالیسی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد آج سہ پہر مرکزی بینک کے گورنر شکتی کانتا داس نے اس میٹنگ میں کئے گئے فیصلے کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ ریپو کی شرح اب 4 فیصد سے بڑھا کر 4.40 فیصد کر دی گئی ہے - اس کے ساتھ اسٹانڈنگ ڈپازٹ فیسیلٹی (ایس ڈی ایف) کی شرح کو بھی 40 بیس پوائنٹس بڑھا کر 4.15 فیصد اور مارجنل اسٹانڈنگ فیسیلٹی (ایم ایس ایف) کی شرح 4.25 فیصد سے بڑھا کر 4.65 فیصد کر دی گئی ہے -انہوں نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح نمو کو سہارا دینے کیلئے اپنے مانیٹری پالیسی کو موافق رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ایڈجسٹمنٹ واپس لے لی ہے کہ افراط زر ہدف کی حد کے اندر رہے -انہوں نے کہا کہ آج جو فیصلہ کیا گیا ہے اس کا ہدف صارفین کی قیمتوں کے اشاریہ کی بنیاد پر افراط زر کو 6 فیصد تک کے ہدف کی حد میں رکھنا ہے، جو درمیانی مدت میں ترقی کوسپورٹ کرتا ہے - اس سال اپریل میں ہونے والے کمیٹی کے اجلاس کے بعد سے عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور پابندیوں کے نتیجے میں بہت سے عوامل پیدا ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اشیا کی فراہمی میں رکاوٹ اور اثر پڑا ہے - قیمتیں بڑھ گئی ہیں - اس سے معاشی سطح پر خطرہ بڑھ گیا ہے - بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے تین ماہ سے بھی کم عرصے میں عالمی اقتصادی ترقی کے نقطہ نظر کو کم کر دیا ہے - اس کے ساتھ ہی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے بھی عالمی تجارتی ترقی کی پیش گوئی میں کمی کردی ہے -گورنر نے کہا کہ مضبوط اقتصادی بنیاد اور ذخیرہ اندوزی کے بل بوتے پر یہ اقتصادی سرگرمیوں کے منفی جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے - قلیل مدتی افراط زر پر بھی تیزی سے قابو پانے کا امکان ہے، لیکن بڑھتے ہوئے عالمی عوامل کے اثرات نظر آسکتے ہیں - اس کے پیش نظر کمیٹی نے ریپو ریٹ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے -انہوں نے کہا کہ کورونا کی تیسری لہر کے باعث لگائی گئی پابندیوں میں نرمی کی وجہ سے اس سال مارچ سے اپریل کے دوران ملکی اقتصادی سرگرمیوں میں جمود کا سامنا کرنا پڑا- شہری مانگ بڑھنے لگی لیکن دیہی مانگ خاموش ہے - سرمایہ کاری کی سرگرمیاں بھی زور پکڑنے لگی ہیں - اپریل میں مسلسل 14ویں مہینے برآمدات دوہرے ہندسوں میں بڑھیں -
ملکی طلب میں اضافے کی وجہ سے نان آئل نان گولڈ کی درآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے -تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود سسٹم میں لیکویڈیٹی سرپلس ہے - 22 /اپریل میں بینک کریڈٹ میں 11.1 فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے - زرمبادلہ کے ذخائر 6.9 /ارب ڈالر کم ہو کر 600 /ارب ڈالر رہ گئے ہیں - انہوں نے کہا کہ مارچ میں خوردہ مہنگائی 7 فیصد تک پہنچ گئی ہے - اس دوران اشیائے خورونوش کی مہنگائی بھی بڑھ کر 7.5 فیصد تک پہنچ گئی- انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا تعین اب عالمی سطح سے کیا جا رہا ہے اور موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اس پر کافی اثر دکھا رہی ہے - عالمی اجناس کی قیمتوں میں حرکت بھی ہندوستانی اشیائے خورونوش کی افراط زر کے رجحان کا تعین کر رہی ہے -کمیٹی کے تمام اراکین نے ریپو ریٹ میں 40 بیس پوائنٹس کے اضافے کی حمایت کی ہے - تمام اراکین نے ہم آہنگی کے موقف کو برقرار رکھنے کی حمایت کی- کمیٹی کا اگلا تین روزہ اجلاس اب 6 سے 8 جون کو ہوگا-


Recent Post

Popular Links